April 17, 2026

پاکستان کے گارمنٹ ورکرز کے لیےانصاف کا راستہ

 پاکستان کے گارمنٹ ورکرز کے لیےانصاف کا راستہ

 رپورٹ ( عامر سہیل، ریذیڈنٹ ایڈیٹر پنجاب ) پاکستان کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹ صنعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ بناتی ہے۔ تاہم، اس چمکتی ہوئی صنعت کے پیچھے لاکھوں محنت کشوں کی وہ کہانیاں دفن ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے حقوق کی پامالی کا سامنا کرتے ہیں۔ حال ہی میں گلوبل رائٹس کمپلائنس کی جانب سے جاری کردہ ایک مفصل رپورٹ شکایت سے ازالے تک نے اس شعبے میں مزدوروں کو درپیش قانونی اور سماجی رکاوٹوں کا کچا چٹھا کھول دیا ہے

پاکستان میں گارمنٹ ورکرز، جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، کو اجرتوں کی عدم ادائیگی، جبری اوور ٹائم، غیر محفوظ حالاتِ کار اور ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج ‘یونین سازی’ میں رکاوٹیں ہیں؛ جب مزدور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، تو انہیں اکثر ملازمت سے نکالنے یا بلیک لسٹ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جی آر سی کی رپورٹ میں ورکرز کے لیے انصاف کے تین بنیادی راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی ان کی ناکامیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے:

لیبر کورٹس اور صوبائی لیبر ڈپارٹمنٹس قانونی طور پر ورکرز کی مدد کے پابند ہیں، لیکن طویل عدالتی کارروائی اور وکلاء کی بھاری فیسیں ایک عام مزدور کی پہنچ سے باہر ہیں عالمی برانڈز جو پاکستان سے مال خریدتے ہیں، ان کے اپنے کوڈ آف کنڈکٹ ہوتے ہیں۔ تاہم، فیکٹری کی سطح پر قائم شکایتی کمیٹیاں اکثر انتظامیہ کے زیرِ اثر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ورکرز ان پر بھروسہ نہیں کرتے او ای سی ڈی جیسے عالمی اداروں تک رسائی ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے بارے میں عام ورکر کو آگاہی ہی نہیں ہے

رپورٹ میں خاص طور پر خواتین محنت کشوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خلاف شکایت درج کرانے سے کتراتی ہیں۔ سماجی دباؤ اور فیکٹری انتظامیہ کا رویہ انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہراسانی کے خلاف قانون سازی کے باوجود، فیکٹریوں میں ان قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے

عالمی منڈی میں پاکستان کی ساکھ اب صرف ‘کم قیمت’ پر نہیں بلکہ ‘اخلاقی پیداوار’ پر منحصر ہے۔ جی آر سی نے زور دیا ہے کہ اگر پاکستان کو یورپی یونین کی جی ایس پی پلس  جیسی رعایتیں برقرار رکھنی ہیں، تو اسے اپنے لیبر قوانین کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق ڈھالنا ہوگا

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ برانڈز اور فیکٹری مالکان کو مل کر ایک ایسا ‘آزاد شکایتی نظام’ بنانا چاہیے جہاں ورکرز کی شناخت خفیہ رہے اور انہیں فوری انصاف ملے۔ اس کے علاوہ، ٹریڈ یونینز کو مضبوط بنانا اور ورکرز کو ان کے قانونی حقوق کے بارے میں تعلیم دینا اس بحران کا واحد پائیدار حل ہے۔

لیبر ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سستی محنت کو انسانی حقوق پر ترجیح دی جاتی رہے گی، تب تک پاکستان کی گارمنٹ صنعت میں حقیقی بہتری محض ایک خواب رہے گی

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp