اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
خلیج میں جنگی بادل، تیل کی ترسیل اور مہنگائی کا نیا طوفان
رپورٹ (عظمی سلطان، ہیڈ اف لیبر نیوز فارن ڈیسک ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی جزوی بندش نے پاکستان کی معاشی سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستانی آئل ٹینکرز کا اس خطرناک زون سے بحفاظت نکلنا معجزہ قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف مقامی صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی چین کا بحران طویل ہوا تو ملک کا صنعتی پہیہ جام ہو سکتا ہے
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا خام تیل سے لدا بحری جہاز کراچی آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کرنے کے بعد اب عمان کے ساحلی شہر سوہار کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ایفرامیکس کلاس کے اس جہاز نے متحدہ عرب امارات سے تیل لوڈ کیا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کی اس تنگ آبی گزرگاہ کو، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد خام تیل اور ایل این جی گزرتی ہے
اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے فرنٹ لائن سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکام اس معاملے پر خاموش ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جہاز کا بحفاظت نکلنا پاکستان کی توانائی کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس صورتحال کو ملک کی برآمدی مسابقت کے لیے ‘سنگین خطرہ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد خام تیل کی درآمدات اسی حساس راستے سے آتی ہیں شپنگ کمپنیوں نے ہنگامی حالات کے پیشِ نظر فی کنٹینر 3,500 ڈالر تک اضافی چارجز عائد کر دیے ہیں
یورپی یونین اور امریکہ تک سامان پہنچنے کے وقت میں 20 دن کا اضافہ ہو چکا ہے، جس سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 20 فیصد کمی کا خدشہ ہے تجارتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم موجودہ آئی ایم اف پروگرام کے تحت مزید تجارتی خسارے کے متحمل نہیں ہو سکتے، لہٰذا حکومت کو فوری طور پر ہنگامی منصوبہ بندی کرنی چاہیے
مقامی سطح پر صورتحال مزید ابتر دکھائی دیتی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کے مطابق، ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ 55 روپے فی لٹر کے اضافے نے مقامی نقل و حمل کے اخراجات میں 25 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے
عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مال برداری کے پرانے فکسڈ معاہدے اب ناقابلِ عمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بارٹر ٹریڈ مال کے بدلے مال اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایندھن کی فراہمی کے متبادل ذرائع تلاش کرے تاکہ مقامی مارکیٹ کو عالمی معاشی بحران کے بدترین اثرات بیروزگاری اور مہنگائی سے بچایا جا سکے
