پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
پاکستان کے محنت کش اور تنخواہوں میں کٹوتی کا بحران
رپورٹ ( بدر الاسلام، ریذیدنٹ ایڈئٹر سندھ ) پاکستان میں معاشی بحران اور آئی ایم ایف کی شرائط کے زیرِ اثر ہونے والی حالیہ قانون سازی اور انتظامی فیصلوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے محنت کش حلقوں میں اس وقت ایک ہنگامہ برپا ہے اور ہر طرف سے ایک ہی آواز سنائی دے رہی ہے تنخواہوں میں کٹوتی نامنظور یہ محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ اس طبقے کی چیخ ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے
سیپکو سکھر کے ایف ڈی آفس کے چیئرمین سمیت ملک بھر کے مزدور رہنما اس وقت ایک ہی نکتے پر متفق ہیں کہ تنخواہوں سے کٹوتی مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ یہ ان محنت کشوں کی حوصلہ شکنی ہے جو ریاست کے ستون کہلاتے ہیں۔
کسی بھی حکومت کی اصل طاقت اس کے بڑے دفاتر، فائلیں یا سونا چاندی نہیں ہوتے، بلکہ وہ محنتی ملازمین اور مزدور ہوتے ہیں جو دن رات بجلی کے کھمبوں پر چڑھ کر، فیکٹریوں کی مشینوں میں اپنا خون پسینہ ایک کر کے ملک کا پہیہ چلاتے ہیں۔ جب حکومت معاشی اصلاحات کے نام پر ان کی پہلے سے قلیل تنخواہوں پر کٹ لگاتی ہے، تو یہ دراصل ان کی محنت کی توہین کے مترادف ہوتا ہے
جدید معاشی اصولوں کے مطابق، اصلاحات وہی کامیاب کہلاتی ہیں جو معاشرے کے کمزور طبقے کو سہارا دیں اور ان کی قوتِ خرید میں اضافہ کریں۔ لیکن یہاں معاملہ الٹ دکھائی دیتا ہے؛ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشی بحران کا سارا ملبہ اس طبقے پر ڈال دیا گیا ہے جو بمشکل اپنا گھر چلا پا رہا ہے۔
اگر حکومت واقعی معاشی بہتری چاہتی ہے، تو اسے اپنے پرتعیش اخراجات، اشرافیہ کی مراعات اور بڑے بڑے سرکاری محکموں میں ہونے والی فضول خرچیوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ محنتی ملازم کی تنخواہ کاٹنا کسی بھی طور پر انصاف نہیں کہا جا سکتا۔
سکھر سے لے کر کراچی اور اسلام آباد تک، ہیڈرو یونین سمیت تمام بڑی مزدور تنظیمیں اس وقت سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا موقف سادہ مگر پراثر ہےکمزور کا سہارا چھیننا اصلاح نہیں ناانصافی ہے جب ایک محنت کش کو یہ محسوس ہو کہ اس کی محنت کا صلہ اسے پورا نہیں مل رہا، تو اس سے نہ صرف اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ریاست کے ساتھ اس کا تعلق بھی کمزور پڑنے لگتا ہے
پاکستان کی موجودہ صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے فیصلے کیے جائیں جو فلاح اور انصاف کے پیمانوں پر پورے اتریں تنخواہوں میں کٹوتی کے بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، اسمگلنگ کی روک تھام اور بڑے بڑے صنعت کاروں کو دی جانے والی رعایتوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے
مزدور تنظیموں کا یہ مطالبہ کہ جیے مزدور، جیے ہیڈرو یونین دراصل اس عزم کا اعادہ ہے کہ محنت کش طبقہ اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کے بجائے ان اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے جو زمین پر کام کر رہے ہیں۔
اگر معاشی اصلاحات کا مقصد صرف اعداد و شمار کو درست کرنا ہے تو شاید کاغذوں میں بہتری آ جائے، لیکن اگر مقصد ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل ہے، تو اس کا آغاز مزدور کے حق کے تحفظ سے ہی ممکن ہے
