پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
عالمی برانڈز اور پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری
رپورٹ ( عثمان صادق ) پاکستان کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری، جو ملکی برآمدات کا ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، اس وقت بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ حالیہ رپورٹس، جن میں کلائمٹ رائٹس انٹرنیشنل اور ایریسا کی تحقیقات شامل ہیں
جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی فیشن برانڈز پاکستان سے اربوں ڈالر کا کاروبار تو کر رہے ہیں، لیکن وہ ان محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ میں بری طرح ناکام رہے ہیں جن کے خون پسینے سے یہ منافع کمایا جاتا ہے
رپورٹ کے مطابق کراچی اور فیصل آباد جیسے صنعتی مراکز میں کام کرنے والے مزدوروں کو شدید گرمی کے دوران غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے
فیکٹریوں کے اندر مشینوں کی تپش اور ناقص وینٹیلیشن کی وجہ سے درجہ حرارت باہر کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے ورکرز کام کے دوران بے ہوش ہو جاتے ہیں، جبکہ انہیں پینے کا صاف پانی اور آرام کے لیے وقفہ بھی نہیں دیا جاتا بڑے بریڈ ان فیکٹریوں سے مال سپلائی لیتے ہیں، مگر وہ ان حالات کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں
اوور ورکڈ اینڈ انڈر پیڈ کے مطابق پاکستانی ڈینم فیکٹریوں میں کام کرنے والے 86 فیصد محنت کش اجرت کی چوری کا شکار ہیں انہیں مقررہ کم از کم تنخواہ سے کم ادائیگی کی جاتی ہے اور ماہانہ 100 گھنٹے تک زبردستی اوور ٹائم لیا جاتا ہے، جس کا اکثر معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔
اگر کوئی مزدور اوور ٹائم سے انکار کرے، تو اسے نوکری سے نکالنے یا ہراساں کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ تقریباً 99 فیصد مزدور اتنی کم اجرت وصول کر رہے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتے۔
پاکستانی لیبر قوانین اور بین الاقوامی کنونشنز کے باوجود، اکثریتی ورکرز کے پاس تحریری معاہدہ موجود نہیں۔ انہیں سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں رجسٹر نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے وہ طبی سہولیات اور پنشن کے حق سے محروم رہتے ہیں۔
جرمن سپلائی چین ایکٹ جیسے سخت قوانین کے باوجود، عالمی برانڈز سطحی آڈ پر انحصار کرتے ہیں جو فیکٹریوں کے اصل حالات چھپانے میں مالکان کی مدد کرتے ہیں
انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی خریداروں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ برانڈز کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی سپلائی چین میں کام کرنے والے ہر ورکر کو لیونگ ویج کی ادائیگی یقینی بنائیں حکومتِ پاکستان سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لیبر انسپکشن کے نظام کو شفاف بنائے اور یونین سازی کے حق کو دبانے والے فیکٹری مالکان کے خلاف سخت کارروائی کرے
