پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
ہنر مند و غیر ہنر مند محنت کشوں کا معاشی استحصال
بیورو رپورٹ ( خالد جاوید، گوجرانوالہ) پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں جہاں سیاسی اور اقتصادی بحرانوں نے جڑیں مضبوط کیں، وہیں تعلیم و تعلم کی ناقص پالیسیوں نے ملک کے سب سے اہم اثاثے محنت کش طبقے کو ذہنی اور تکنیکی طور پر کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کی رپورٹوں اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کا لٹریسی ریٹ (56%) اپنے ہمسایہ ممالک چین (96%)، سری لنکا (93%) اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش (61%) سے بھی کم ہے، جس کا براہِ راست خمیازہ ملک کی “قوتِ کاسبہ” یعنی کمانے والے طبقات بھگت رہے ہیں
لیبر نیوز سروے کے مطابق پاکستان میں فرسودہ تعلیمی پالیسیوں اور طبقاتی نظامِ تعلیم کی وجہ سے اکثریتی مزدور طبقہ بنیادی اور تکنیکی مہارتوں سے محروم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا میں ہونے والی جدید ترین ایجادات اور زرعی و صنعتی ترقی کی رفتار ملک میں انتہائی سست ہے۔ غیر ہنر مند مزدوروں کی کثرت کی وجہ سے ہماری صنعت اور زراعت مکمل طور پر سرمایہ دار اور جاگیردار طبقات کے رحم و کرم پر ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد محکمہ محنت و افرادی قوت کی صوبوں کو منتقلی بھی اس شعبے میں بہتری لانے میں ناکام رہی ہے۔
ایک تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ ملک میں لاکھوں صنعتی مزدوروں میں سے صرف ایک قلیل تعداد رجسٹرڈ ہے۔ سندھ میں 30 لاکھ صنعتی مزدوروں میں سے صرف 5 لاکھ اداروں کے پاس رجسٹرڈ ہیں، جبکہ پنجاب میں یہ تعداد ساڑھے نو لاکھ کے قریب ہے۔ دیہاتوں میں کام کرنے والے کسانوں، تعمیراتی مزدوروں اور گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کا سرے سے کوئی میکانزم ہی موجود نہیں، جس کی وجہ سے وہ حکومتی سہولیات، صحت اور تعلیم کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں۔
ملک کے معاشی حالات اور قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے ہنر مند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سالوں میں 7 لاکھ 65 ہزار سے زائد پڑھے لکھے افراد نے پاکستان سے ہجرت کی۔ مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ پاکستانی (آبادی کا 5%) بیرونِ ملک مقیم ہیں، جو ملکی ترقی میں حصہ ڈالنے کے بجائے غیر ممالک کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ مقتدرہ اور اشرافیہ کے پاس اس “برین ڈرین” کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی موجود نہیں ہے
مہنگائی کی شرح 60% تک پہنچنے کے باوجود اجرتوں میں اس تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ غربت سے تنگ آکر محنت کش اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے بجائے دکانوں اور ورکشاپوں پر بھیجنے پر مجبور ہیں، جبکہ معصوم بچیاں اشرافیہ کے گھروں میں مشقت کر رہی ہیں۔ اگرچہ کاغذات میں “چائلڈ لیبر” ممنوع ہے، مگر عملی طور پر یہ استحصال عروج پر ہے۔
یومِ مزدور منانے والی تنظیمیں اور سی بی آئی یونینز اکثر مالکان کے ساتھ مل کر اپنے مفادات تو حاصل کر لیتی ہیں، مگر اجتماعی طور پر مزدور کی حالت نہیں بدل سکی۔ جب تک ملک میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر عدل و انصاف پر مبنی معاشی نظام قائم نہیں کیا جاتا، جہاں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو، تب تک محنت کشوں کے مظالم کی داد رسی ممکن نہیں
