پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
اسٹیٹ بینک کے برطرف ملازمین مستقل بحال
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیٹ بینک کے برطرف کیئے گئے ملازم کو مستقل طور پر بحال کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ ٹھیکیداری نظام کے تحت مستقل فرائض انجام دینے والے مزدورں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ بھی فوجی فررٹلائز کے خلاف ایک کیس میں سنا چکی ہے لہذا اسٹیٹ بینک کی اپیل خارج کرتے ہوئے این آئی آر سی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے
دو رکنی بینچ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ سروسز کارپوریشن کی آئینی درخواستیں خارج کر دیں۔ کیس کے مطابق تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر تعینات ڈسپنسر حافظ رئیس کی برطرفی کو این آئی آر سی نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بیک بینیفٹس سمیت مستقلی کا حکم دیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد ڈیموکریٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری جنرل لیاقت علی ساہی نے اسے کنٹریکٹ ورکرز کے حقوق کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق فیصلہ اسٹینڈنگ ایمپلائمنٹ آرڈرز 1968 کی تشریح میں اثرانداز ہو سکتا ہے۔
