اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
ڈاک لیبر بورڈ کے محنت کشوں کی ہڑتال کو 11 دن مکمل
کراچی ( نمائندہ، لیبر نیوز ویب ڈیسک) ڈاک لیبر بورڈ کے محنت کشوں کی ہڑتال اور احتجاجی دھرنے کو گیارہ دن مکمل ہو گئے ہیں، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ کراچی پریس کلب کے باہر قائم بھوک ہڑتالی و احتجاجی کیمپ میں مختلف سیاسی، مذہبی اور مزدور تنظیموں کے رہنماؤں نے پہنچ کر محنت کشوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا
احتجاجی کیمپ میں موجود ڈاک لیبر کے محنت کشوں سے پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے چیئرمین کنور ارشد علی، ڈاک لیبر بورڈ ورکرز یونین کے چیئرمین حسین باچا، صدر احمد سعید اور جنرل سیکرٹری داؤد مہمند، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی، جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنماؤں مولانا نور الحق، مولانا محمد عثمان اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومتی فیصلے پر شدید تنقید کی
مزدور رہنماؤں نے کہا کہ ڈاک لیبر بورڈ کو ختم کر کے کارگو ہینڈلنگ کو ٹھیکہ داری نظام کے تحت نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ڈھائی ہزار سے زائد محنت کش بے روزگار ہو جائیں گے کسی صورت محنت کشوں کو بے روزگار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
