اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
مزدوروں کے لیے کینسر اسپتال بنانے کا فیصلہ
کراچی ( نمائندہ، لیبر نیوز ویب ڈیسک) وزارت محنت سندھ نے مزدوروں کو مہنگے علاج کی مشکلات سے بچانے کے لیے سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن سیسی کے تحت کینسر اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں کینسر اسپتال کی فزیبلٹی رپورٹ فوری طور پر تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
یہ فیصلہ وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ اور چیئرمین سیسی سعید غنی کی زیر صدارت سیسی کی 175ویں گورننگ باڈی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محنت سندھ اسد اللہ ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، گورننگ باڈی کے ارکان انجینئر عبدالجبار، دانش خان، محمد خان ابڑو، عبد الوحید شورو، زہرہ خان، مختار حسین اعوان، میڈیکل ایڈوائزر سیسی ڈاکٹر سعادت میمن سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ کینسر جیسے موذی مرض کا علاج عام مزدور کی دسترس سے باہر ہوتا ہے، اس لیے سیسی کے دائرہ کار میں کینسر اسپتال کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ سیسی کے اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید خطوط پر استوار کیا جائے
وزیر محنت نے بینظیر مزدور کارڈز کے اجرا کے عمل کو مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ زیادہ سے زیادہ مزدور صحت کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اجلاس میں سیسی کے ریٹائرڈ ملازمین کو مفت طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے سیسی قانون کے مطابق اقدامات کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
