اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے،سندھ ہیومن رائٹس کمیشن
کراچی ( نمائندہ امیر صدیقی، لیبر نیوز ویب ڈیسک ) سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے عالمی دنِ انسدادِ غلامی پر جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے خلاف مشاورتی اجلاس منعقد کیا، جس میں لیبر ڈپارٹمنٹ، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں زور دیا گیا کہ قرضِ غلامی، کم از کم اجرت کی خلاف ورزی، بغیر معاوضہ اوور ٹائم اور بچوں کا استحصال جدید غلامی کی بڑی شکلیں ہیں، جن کے خلاف عملی کارروائی ناگزیر ہے۔
بیرسٹر رِدا طاہر نے کہا کہ 18 سال سے کم ہر بچہ ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ ٹریفکنگ اور بونڈیڈ لیبر قوانین پر سخت عمل درآمد ضروری ہے۔ بیرسٹر شیراز راجپر کے مطابق 2021 کی قانونی ترمیم نے بچوں سے متعلق جرائم کی تعریف کو مضبوط کیا ہے، جس سے کارروائیاں مؤثر ہوں گی۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کے ریجنل ڈائریکٹر سید اطہر علی شاہ نے بتایا کہ چائلڈ لیبر کی شرح 20 فیصد سے کم ہوکر 10 فیصد رہ گئی ہے، تاہم بونڈیڈ لیبر اب بھی بڑا چیلنج ہے۔ شرکاء نے ویجیلنس کمیٹیوں کی کارکردگی بہتر بنانے، خصوصی بچوں کیلئے خصوصی عدالتوں، اور عوامی آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر نے کہا کہ جبری و چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے سخت نگرانی، محکموں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور مسلسل آگاہی مہم ناگزیر ہے۔
