بھارت میں نیا لیبر کوڈ نافذ، خواتین کو مردوں کے برابر تنخواہ ملے گی
نئی دہلی (لیبر نیوز ویب ڈیسک) بھارتی حکومت نے ملک بھر میں نیا لیبر کوڈ نافذ کر دیا جو 21 نومبر سے مؤثر ہے۔ نئے قوانین کا مقصد کم از کم اجرت کی بروقت ادائیگی، ملازمین کیلئے تحریری اپائنٹمنٹ لیٹر، سماجی تحفظ اور محفوظ کام کے ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نرندر مودی نے کہا ہے کہ ماضی کے 29 لیبر قوانین کو چار کوڈز میں یکجا کیا گیا ہے جن میں اجرت ضابطہ 2019ء، صنعتی تعلقات 2020ء، سماجی تحفظ 2020ء اور پیشہ ورانہ تحفظ و صحت 2020ء شامل ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ نئے ضابطے عالمی معیار اور جدید صنعتی ضروریات کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں۔
نئے کوڈ کے تحت خواتین کو مساوی کام کے عوض مساوی تنخواہ کا حق حاصل ہوگا جبکہ اپنی رضامندی سے رات کے اوقات میں ڈیوٹی کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ فکسڈ ٹرم ملازمین ایک سال ملازمت پر گریجویٹی کے حق دار ہوں گے، 40 سال سے زائد عمر کے کارکنان کا سالانہ مفت میڈیکل چیک اپ ہوگا اور اوور ٹائم کی ادائیگی ڈبل اجرت پر کی جائے گی۔
نئے لیبر کوڈ کے مطابق خطرناک صنعتوں میں ملازمین کیلئے 100 فیصد تحفظ یقینی بنایا جائے گا، 500 سے زائد ملازمین والے اداروں میں حفاظتی کمیٹیاں لازمی ہوں گی، جبکہ جیگ اور پلیٹ فارم کارکنوں کو بھی پی ایف، ای ایس آئی سی، انشورنس اور دیگر سماجی تحفظات فراہم کیے جائیں گے۔
#labournewsint
