لیبر نیوز کی خبر پر ایکشن، عدالت کا تمام دیہاڑی دار مزدوروں کی رجسٹریشن کا حکم
کراچی : سندھ ہائی کورٹ میں دیہاڑی دار سمیت مزدوروں کو سیسی اور ای او بی ائی میں شامل کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دئیے کہ جس طرح جانوروں کی منڈی لگتی ہے اس طرح انسانوں کی بھی منڈی لگتی ہے۔ بدقسمتی سے وہ انسانوں کی منڈی ہر جگہ لگتی ہے۔ ہر چوک چوراہوں پر انسانوں کی منڈیاں لگتی ہیں یہاں مزدور کھڑے ہوتے ہیں وہ بھی ایک طرح کی منڈی ہے، جہاں صبح سے لیکر شامل تک مزدور کھڑے ہوتے ہیں،کوئی رنگ والا، کوئی پلستر والا دہاڑی کیلئے مزدور کھڑے رہتے ہیں۔ آج کل کوئی خریدار نہیں ہوتا ان انسانی منڈیوں میں۔ عدالت نے سیسی حکام سے استفسار کیا کہ ان مزدوروں کے لئے آپ لوگوں نے کیا کیا
جسٹس صلاح الدین پنہور کا کہنا تھا کہ کیا سیسی ان مزدوروں کیلئے بھی کچھ کرتی ہے، ایسے بیچارے کہاں جائیں جن کو دیہاڑی نہیں ملتی، جسٹس صلاح الدین پنہور کا سیسی اور EOBI حکام سے استفسارکیا کہ سیسی قانون میں ان مزدوروں کو شامل کیوں نہیں کیا جا رہا؟ سیسی کے پاس کتنے ورکرز رجسٹرڈ ہیں؟ سرکاری حکام نے عدالت کو بتایا کہ 8 لاکھ 76 ہزار مزدور رجسڑڈ ہیں، جس پر عدالت نے سرکاری رپورٹ پر اظہار حیرانگی کرتے ہوئے کہا کہ آج سے دس سال پہلے صرف 6 لاکھ مزدور رجسڑڈ تھے دس سالوں میں کیا صرف 2 لاکھ ہی مزدور بڑھے ہیں، جائیں، پہلے مزدوروں کی رجسٹریشن کریں کہ کتنے مزدور ہیں۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے دوران سماعت ریماکس دیئے ہر چوک چوراہوں پر انسانوں کی منڈیاں لگتی ہیں یہاں مزدور کھڑے ہوتے ہیں وہ بھی ایک طرح کی منڈی ہے کیا سیسی ان مزدوروں کیلئے بھی کچھ کرتی ہے،ایسے بیچارے کہاں جائیں جن کو دیہاڑی نہیں ملتی
عدالت نے کمشنر سیسی کو ہدایت کی کہ پہلے پیٹرول پمپ، چوکوں چوراہوں پر جائیں، ہر جگہ آپ کو مزدور ملیں گے، لیکن آپ لوگوں کو کام نہیں کرنا ہے۔ ایگریکلچر ورکرز ایکٹ بھی موجود ہے۔ ان مزدوروں کیلئے کیا کیا گیا جو زراعت سے وابستہ ہیں، جسٹ صلاح الدین پنہور نے سوال کیا کہ کیا ان کو صرف بینظیر کارڈ کے پیسے دیں گے، عدالت نے تمام فریقین کے وکلا کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی
