Skip to content
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) کراچی کے محکمہ محنت میں لیبر کمشنر کے ایک متنازع فیصلے نے کھلبلی مچا دی ہے، جہاں ٹیکسٹائل مل کے ملازم کے حق میں سنایا گیا ساڑھے 6 کروڑ روپے کا زبانی فیصلہ تحریری حکم نامے میں خارج کی صورت میں سامنے آیا ہے
متاثرہ ملازم امجد اعوان نے الزام لگایا ہے کہ گریڈ 19 کے افسر عبدالصمد سومرو نے پہلے 6 کروڑ 48 لاکھ روپے کی ڈگری دی، مگر بعد میں فیکٹری مالک سے مبینہ ساز باز کر کے تحریری حکم نامہ ہی بدل دیا
درخواست گزار کے مطابق، بدعنوان افسر نے فیصلہ ٹائپ کر کے پہلے فیکٹری مالک کو واٹس ایپ کیا، جس نے ملازم کو دھمکیاں بھی دیں۔ دوسری جانب جوائنٹ ڈائریکٹر عبدالصمد سومرو نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی رقم کا دعویٰ ابتدائی مرحلے پر ہی غلط ہے۔ متاثرہ ملازم نے انصاف کے لیے اینٹی کرپشن اور ڈی جی لیبر کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے