اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
غیر ملکی جوڑے نے 130 سالہ پرانا قرض ادا کر کے پاکستانی خاندان کو بھٹہ مزدوری سے آزاد کرا دیا
لاہور ( مدثر خان ، بیورو چیف لاہور ) پنجاب کے تاریخی شہر قصور میں انسانی ہمدردی کی ایک بے مثال داستان سامنے آئی ہے، جہاں ایک غیر ملکی جوڑے نے نسلوں سے چلے آنے والے طویل ترین قرض کی ادائیگی کر کے ایک ہی خاندان کی کئی نسلوں کو بھٹہ مزدوری اور جبری مشقت کے جہنم سے ہمیشہ کے لیے آزاد کرا دیا۔
اس مظلوم خاندان کا یہ معاشی استحصال تقریباً 130 سال قبل ان کے ایک بزرگ کی جانب سے لیے گئے معمولی قرض سے شروع ہوا تھا۔ یہ قرض وقت گزرنے کے ساتھ سود در سود کے باعث ناقابلِ ادائیگی بوجھ بن گیا،
جس کی وجہ سے خاندان کے معصوم بچوں سمیت نسل در نسل لوگ بغیر اجرت کے بھٹہ خانے پر کڑی دھوپ میں خون پسینہ بہانے پر مجبور تھے۔
اس المناک صورتحال کا علم ہونے پر غیر ملکی جوڑے نے مداخلت کی اور تمام بقایاجات یکمشت ادا کر دیے، جس کے بعد آزادی ملنے پر خاندان کے افراد آبدیدہ ہو گئے اور غیر ملکی جوڑے کا شکریہ ادا کیا۔
اس انسانی ہمدردی کے عمل کو مذہب اور قومیت سے بالاتر قرار دے کر خوب سراہا، جبکہ انسانی حقوق اور لیبرمبصرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے غیر منظم بھٹہ سیکٹر میں غربت کے باعث لاکھوں خاندان اب بھی اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں
