June 1, 2026

مزدور کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کیوں ؟

 مزدور کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کیوں ؟

عبدالمجید سالک

————-

پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن نے نہ صرف پنجاب بھر کے محنت کشوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے، بلکہ یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ کیا ریاست اب غریب کے بچے سے تعلیم کا حق بھی چھین لینا چاہتی ہے؟

اس متنازع فیصلے کے تحت مزدوروں کے بچوں کے لیے اسکالرشپ پر 60 فیصد اور میڈیکل و انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے 80 فیصد نمبروں کی سخت شرط عائد کر دی گئی ہے، جسے مزدور قیادت نے “مزدور دشمن” اقدام قرار دے کر مسترد کر دیا ہے

پنجاب کے مزدور رہنماؤں کا یہ موقف بالکل درست اور حقیقت پر مبنی ہے کہ یہ فیصلہ غیر منصفانہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ کیا پالیسی سازوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ مزدور کا بچہ اور اشرافیہ کا بچہ ایک جیسے حالات میں تعلیم حاصل نہیں کرتے؟

جہاں مراعات یافتہ طبقے کے بچوں کو مہنگی اکیڈمیز، بہترین ٹیوشنز، پرسکون ماحول، الگ اسٹڈی روم اور بلاتعطل بجلی جیسی سہولیات میسر ہیں، وہیں ایک محنت کش کا بچہ تنگ و تاریک گھروں، معاشی تنگی اور بنیادی سہولیات کے فقدان میں اپنی کتابوں سے رشتہ جوڑتا ہے

اکثر محنت کش والدین پڑھے لکھے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ان بچوں کو گھر میں وہ تعلیمی رہنمائی نہیں مل پاتی جو کسی افسر یا بزنس مین کے بچے کو حاصل ہوتی ہے۔

 ان کٹھن حالات، غربت اور ذہنی دباؤ کے باوجود کسی ڈگری کا حصول ہی دراصل مزدور کے بچے کا اصل میرٹ ہے، جسے انتظامیہ نمبروں کے گورکھ دھندے میں دبانا چاہتی ہے۔

ملی لیبر فیڈریشن سمجھتی ہے کہ پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ کا یہ فیصلہ جمہوری اور قانونی طریقہ کار کے صریحاً منافی ہے۔

 قانون کے مطابق محنت کشوں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم اور مستقبل پر اثر انداز ہونے والی کسی بھی پالیسی کو پہلے گورننگ باڈی کے سامنے رکھنا چاہیئے اس پر بحث کرنا اور باضابطہ منظوری لینا قانونی طور پر لازم ہے

 لیکن یہاں انتظامیہ نے ان تمام مراحل کو نظر انداز کر کے آمریت کا مظاہرہ کیا ہے اور یکطرفہ طور پر یہ نوٹیفکیشن نافذ کر دیا ہے۔

ملی لیبر فیڈریشن اس نوٹیفکیشن کو محنت کشوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا ارادہ رکھتی ہے

ہم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں محنت کشوں کے بچوں سے چھینے جانے والے تعلیمی حق کا نوٹس لیں۔

 ورکرز ویلفیئر فنڈ کا بنیادی مقصد محنت کشوں کو سہارا دینا اور ان کی زندگیوں میں آسانی لانا ہے، نہ کہ کڑی شرائط کے ذریعے ان پر تعلیم کے دروازے بند کر کے انہیں مایوسی کی دلدل میں دھکیلنا

ہم وزیرِ محنت پنجاب اور متعلقہ حکام کو باور کراتے ہیں کہ اس نوٹیفکیشن کو فی الفور کالعدم قرار دے کر ٹریڈ یونینز کی مشاورت سے ایک منصفانہ پالیسی مرتب کی جائے۔

اگر یہ ظالمانہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو محنت کشوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، غصے اور بد اعتمادی کی تمام تر ذمہ داری پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ہم خاموش تماشائی نہیں رہیں گے تعلیم مزدور کے بچے کا حق ہے، اور ہم یہ حق لے کر رہیں گے

تعارف : عبدالمجید سالک ایک ممتاز مزدور رہنما ہیں اور موجودہ وقت میں ملی لیبر فیڈریشن، پنجاب کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں. وہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ ان کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود، اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف مضبوط آواز بلند کرنے کے لیے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp