April 17, 2026

مزدور کی 40 ہزار اجرت اب مذاق ہے

 مزدور کی 40 ہزار اجرت اب مذاق ہے

مختار حسین اعوان

———————-

پاکستان کی معیشت اس وقت جس نہج پر کھڑی ہے، اس نے عام آدمی بالخصوص محنت کش طبقے سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کے بعد ملک میں مہنگائی کا وہ طوفان برپا ہوا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی

یہ محض ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس گھرانے کے کچن پر شب خون مارنے کے مترادف ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی حلال کی کمائی سے دال روٹی کا بندوبست کرتا ہے۔ آج کراچی کا مزدور طبقہ ایک ایسے شدید بحران کا شکار ہے جہاں بقا کی جنگ لڑنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے

حالیہ ہوشربا اضافے کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ آٹا، چینی، دالیں اور سبزیاں اب غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایک دیہاڑی دار مزدور، جو صبح سے شام تک تپتی دھوپ اور مشینوں کے شور میں خود کو پگھلاتا ہے، وہ شام کو جب خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے تو اسے اپنے بچوں کی بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

 ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ہونے والے بے تحاشہ اضافے نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مزدور کی آدھی دہاڑی صرف کام کی جگہ تک آنے جانے کے کرایوں میں صرف ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مزدور اپنے خاندان کی کفالت کیسے کرے؟ کیا وہ بچوں کو پڑھائے، ان کا علاج کروائے یا صرف ایک وقت کی سوکھی روٹی کا انتظام کرے؟

پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن اس صورتحال پر خاموش نہیں رہ سکتی موجودہ معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت روایتی ریلیف کے دعوؤں سے باہر نکلے اور ہنگامی بنیادوں پر انقلابی اقدامات کرے

ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری و نجی شعبوں کے مزدوروں کی تنخواہوں اور پنشن میں فوری طور پر 200 فیصد اضافہ کیا جائے یہ مطالبہ کوئی عیاشی نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ 40 ہزار روپے کی کم از کم اجرت اب 450 روپے لیٹر والے پیٹرول کے دور میں مذاق بن کر رہ گئی ہے

جب تک اجرتوں کا ڈھانچہ مہنگائی کے تناسب سے تبدیل نہیں کیا جاتا، تب تک محنت کش طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے دھنستا چلا جائے گا کم از کم اجرت میں بھی نمایاں اضافہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتکاروں اور نجی اداروں کو پابند کرے کہ وہ اپنے ملازمین کو مہنگائی کے اس طوفان سے بچانے کے لیے خصوصی انفلیشن الاؤنس جاری کریں

 پنشنرزجنہوں نے اپنی پوری زندگی اس ملک کی خدمت میں گزار دی، آج ادویات اور روٹی کے لیے دوسروں کے دستِ نگر ہیں۔ ان کی پنشن میں بھی دو سو فیصد اضافہ ان کا اخلاقی اور قانونی حق ہے۔

ہم حکومتِ پاکستان  سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کریں۔ اگر محنت کش طبقے کو فوری طور پر معاشی تحفظ فراہم نہ کیا گیا اور ان کے لیے باعزت زندگی گزارنے کے اسباب پیدا نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں

پاکستان کا وہ مزدور جو اس ملک کی معیشت کی شہ رگ ہے اگر وہ ٹوٹ گیا تو پورا صنعتی نظام مفلوج ہو جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات بدلے اور اشرافیہ کو نوازنے کے بجائے اس طبقے کی فکر کرے جو حقیقی معنوں میں پاکستان کی تعمیر کر رہا ہے بصورتِ دیگر یہ معاشی بحران ایک ایسے سماجی ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے جس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا

تعارفِ ، مختار حسین اعوان پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر اور مزدور تحریک کے معتبر رہنما ہیں۔ وہ دہائیوں سے کراچی سمیت ملک بھر کے صنعتی و تجارتی مراکز میں محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں معاشی بحران کے نتیجے میں مزدور طبقے پر ٹوٹنے والے مہنگائی کے پہاڑ اور ان کے جائز مطالبات کے لیئے آواز بلند رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp