مزدور کی دہلیز پر دستک دیتی امید
تحریر ( ڈاکٹر کامران اعوان)
سندھ کی صنعتی ترقی کی بنیاد ان لاکھوں محنت کشوں کے خون اور پسینے پر استوار ہے جو دن رات پہیہ گھمانے میں مگن رہتے ہیں۔ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ سوشل سیکیورٹی کا نظام یقیناً ایک شجرِ سایہ دار کی مانند ہے
مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کی چھاؤں ہر مزدور کے گھر تک پہنچی ہے؟ سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن جو 1965 کے آرڈیننس کے تحت ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم ہوا
آج مزدور طبقے کے لیے سیسی طبی و مالی تحفظ کا سب سے بڑا ضامن بن کر ابھر رہا ہے
سیسی نے کراچی سے سکھر تک ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا ایک ایسا نیٹ ورک بچھایا ہے جہاں رجسٹرڈ ورکر اور اس کے اہل خانہ کو علاج کے لیے جیب نہیں دیکھنی پڑتی کراچی کا کلثوم بائی ولیکا ہسپتال اس کا درخشاں ستارہ ہے
جہاں کینسر جیسے مہلک مرض کا علاج اور قیمتی ادویات بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں
اسی طرح لانڈھی میں قائم کڈنی سینٹر گردوں کے امراض اور ڈائلیسس کے مریضوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں آپریشن تھیٹر ہوں یا لیبارٹری ٹیسٹ، مزدور کے لیے یہاں سب کچھ حق کے طور پر دستیاب ہے خیرات کے طور پر نہیں
سوشل سیکیورٹی صرف ہسپتال کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک معاشی ڈھال بھی ہے بیماری کی صورت میں چھٹیوں کی تنخواہ خواتین کے لیے زچگی کے اخراجات، اور کسی ناگہانی حادثے کی صورت میں تاحیات معذوری پنشن اس نظام کی روح ہیں۔
سب سے اہم پہلو پسماندگان کی پنشن ہے، جو کسی محنت کش کی وفات کے بعد اس کی بیوہ اور بچوں کو دربدر ہونے سے بچاتی ہے۔
مزدور معیشت کا ستون ہے اور اس ستون کو مضبوط کرنے کے لیے ادارے میں اصلاحات کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ کمشنر سوشل سیکیورٹی ہادی بخش کلہوڑو اور وائس کمشنر سکندر بلوچ کی قیادت میں اب رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔
قانون کے مطابق جس ادارے میں 5 یا اس سے زائد ملازمین ہوں، ان کی رجسٹریشن لازمی ہے، لیکن اب بھی لاکھوں زرعی اور چھوٹے صنعتی مزدور اس دائرے سے باہر ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے آن لائن پورٹل اوربینظیر مزدور کارڈ کا اجرا ایک انقلابی قدم ہے
نادرا کے تعاون سے بننے والے یہ سمارٹ کارڈز اب مزدور کی سوشل شناخت بن چکے ہیں، جس کے ذریعے وہ سندھ بھر میں کہیں بھی سہولیات حاصل کر سکتا ہے حتیٰ کہ اب مالی ڈرائیور اور باورچی جیسے گھریلو ملازمین بھی آن لائن رجسٹر ہو کر اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں
سندھ سوشل سیکیورٹی کا ڈھانچہ بلاشبہ مضبوط ہے لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار مکمل شفافیت اور آگاہی پر ہے
جب تک ہر مزدور کو اپنے موجودہ قیادت کے عزم اور جاری آگاہی مہمات سے یہ امید بندھ چلی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب سندھ کا ہر محنت کش ایک محفوظ سوشل سیفٹی نیٹ کے سائے تلے ہوگا، جو ایک خوشحال اور معاشی طور پر مستحکم معاشرے کی ضمانت ہے
تعارف : ڈاکٹر کامران اعوان ایک تجربہ کار طبی ماہر ہیں جو سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشنمیں بطور میڈیکل ایڈوائزر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اپنی تحریروں کے ذریعے محنت کشوں کی صحت میں بہتری کے حوالے اظہار خیال کرتے ہیں اوراسپتالوں میں مزدوروں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں
