May 31, 2026

کیا ہم ایک خشک مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

 کیا ہم ایک خشک مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

تحریر ( غلام مرتضیٰ تنولی ) دنیا بھر میں 22 مارچ کو عالمی یومِ آب ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب پاکستان جیسے ممالک کے لیے پانی اب صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ قدرت کی یہ عظیم نعمت ہماری زراعت، صنعت اور انسانی زندگی کی بنیاد ہے،

مگر آج ہم تیزی سے اس نعمت سے محروم ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ ماہرین کی چیخ و پکار واضح ہے اگر پانی کے ذخائر اور تقسیم کا نظام درست نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں ہمیں شدید آبی قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔ ایک طرف ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جو عارضی طور پر تو سیلاب کا سبب بنتے ہیں، مگر طویل مدت میں یہ دریاؤں کے خشک ہونے کا پیش خیمہ ہیں۔

بارشوں کا غیر متوازن پیٹرن اور زیرِ زمین پانی کی سطح کا تیزی سے گرنا اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ شہری آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ پانی کی طلب تو بڑھا رہا ہے مگر اس کے تحفظ کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آرہا۔

پانی کا یہ مسئلہ صرف کھیتوں تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے صنعتی مراکز اور مزدور بستیاں اس سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بڑے صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں۔

فیکٹریوں میں واٹر مینجمنٹ کا فقدان ہے اور صنعتی فضلہ ہمارے آبی ذخائر کو زہر آلود کر رہا ہے۔ یہ آلودگی نہ صرف ماحول کو تباہ کر رہی ہے بلکہ مزدور طبقے میں جان لیوا بیماریوں کا باعث بھی بن رہی ہے۔

اس نازک موڑ پر مزدور رہنماؤں اور ٹریڈ یونینز کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ٹریڈ یونینز صرف اجرتوں کی بات نہ کریں بلکہ فیکٹریوں کے اندر صاف پانی کی فراہمی اور ماحول دوست صنعتی پالیسیوں کے لیے بھی آواز بلند کریں۔ ہمیں صنعتکاروں اور حکومت کو اس بات پر مجبور کرنا ہوگا کہ صنعتی فضلے کو ٹریٹ کیے بغیر دریاؤں میں نہ بہایا جائے

دوسری جانب حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر نئے ڈیمز، واٹر مینجمنٹ کے جدید نظام اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبوں پر کام کرنا ہوگا۔ عوام میں پانی کے ضیاع کو روکنے کا شعور بیدار کرنا بھی اب قومی فریضہ بن چکا ہے

عالمی یومِ آب محض تقاریر کا دن نہیں بلکہ ایک عہد کا دن ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی زندگی ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم نے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے عملی اور پائیدار اقدامات نہ کیے، تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

حکومت، صنعتی ادارے اور سماجی تنظیمیں مل کر اس بحران کا حل نکالیں تاکہ پاکستان کے محنت کش اور پوری قوم ایک محفوظ اور صاف مستقبل کی امید رکھ سکے

تعارف : غلام مرتضیٰ تنولی پاکستان کی مزدور تحریک کا ایک معتبر نام اور محنت کشوں کے حقوق کے توانا علمبردار ہیں۔ آپ طویل عرصے سے صنعتی شعبے سے وابستہ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں آپ پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور افکو انصاف محنت کش یونین کے جنرل سیکرٹری ہیں آپ کیمیکل، توانائی اور کان کنی جیسے حساس شعبوں سے وابستہ ہزاروں محنت کشوں کی نمائندگی کرتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp