پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین: حقوق کی جنگ اور ‘ہاتھیوں’ کا تماشہ
تحریر ( عارف روہیلہ ) تاریخ کے جھروکوں سے امام مالکؒ کے درس کا وہ واقعہ یاد آتا ہے جب گلی میں ہاتھی کے گزرنے کے شور پر سب تماشہ دیکھنے بھاگ کھڑے ہوئے، مگر یحییٰ بن یحییٰ لیثی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ علم کے ‘مقصد’ کے لیے آئے تھے، ‘تماشے’ کے لیے نہیں۔ آج یہی امتحان پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ان ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کا ہے، جو اپنے جائز حقوق کے لیے برسوں سے دربدر ہیں۔
پی آئی اے کے بزرگ ملازمین کے ساتھ ہونے والا سلوک کسی المیے سے کم نہیں۔ میڈیکل سہولیات کو اسٹیٹ لائف کے حوالے کرتے وقت بڑے سہانے خواب دکھائے گئے تھے، لیکن حقیقت میں بزرگوں کو صرف ذلت، تاخیر اور ہسپتالوں کے چکر نصیب ہوئے۔ دوسری طرف مہنگائی کا طوفان سب کچھ بہا لے گیا ہے، مگر ان ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن سالہا سال سے ایک ہی جگہ منجمد ہے۔
اس پوری صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ ‘ہاتھی’ ہیں جنہیں خود ملازمین نے اپنے گرد جمع کر رکھا ہے۔ یہ ایسوسی ایشنز، خود ساختہ نمائندے اور نام نہاد اسٹیک ہولڈرز ہیں جو کبھی ہمدرد بن کر سامنے آتے ہیں اور کبھی ترجمان بن کر۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ریٹائرڈ ملازمین کو صرف باتوں میں الجھایا اور اصل مقصد سے دور رکھا۔
جدید دور میں ‘ہاتھیوں’ کی نئی اقسام بھی سامنے آ گئی ہیں۔ اب واٹس ایپ گروپس میں لمبی چوڑی پوسٹیں ڈالنے والے، سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز اور تصویریں چمکانے والے اور پریس کانفرنسوں میں لفاظی کرنے والے لیڈرز پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ سب آپ کو ‘مصروف’ تو رکھتے ہیں، مگر آپ کو آپ کے ‘حق’ تک نہیں پہنچاتے۔ یہ تماشہ تو دکھاتے ہیں لیکن منزل کا راستہ نہیں دیتے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین صرف تماشہ دیکھتے رہیں گے یا اپنے حق کے لیے سنجیدہ آواز اٹھائیں گے؟ اب وقت آگیا ہے کہ ان ‘ہاتھیوں’ سے جان چھڑائی جائے۔ چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، جب تک حالت بدلنے کے لیے خود قدم نہ اٹھایا جائے۔ اجتماعی آواز بننا، قانونی راستہ اختیار کرنا اور عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس ذلت سے نکال سکتا ہے۔
ورنہ یاد رکھیے، تماشہ جاری رہے گا، چہرے بدلتے رہیں گے، لیکن آپ کی محرومیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔
