May 29, 2026

مزدور کی کم سے کم اجرت اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج

 مزدور کی کم سے کم اجرت اور زمینی حقائق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج

تحریر ( صمیم طارق ، ملی لیبر فیڈریشن کراچی ) سندھ میں مالی سال 2025-26 کے لیے کم سے کم اجرت کے تعین کا حالیہ عمل پاکستان میں مزدور پالیسی سازی اور اس کے عملی نفاذ کے درمیان موجود گہرے تضادات کو ایک بار پھر منظرِ عام پر لے آیا ہے۔

حکومتِ سندھ نے ابتدائی طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شہری زندگی کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ہنر مند مزدور کے لیے 42 ہزار روپے ماہانہ اجرت تجویز کی تھی، جسے صنعتی حلقوں نے اپنی پیداواری لاگت میں اضافے اور پنجاب جیسے دیگر صوبوں سے مسابقت کا عذر بنا کر مسترد کر دیا۔

جولائی 2025 کے آغاز میں حکومت اور بڑی تجارتی تنظیموں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ایک درمیانی راستہ نکالا گیا۔ حکومت نے اپنی اصل تجویز سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے کم سے کم اجرت کو 40 ہزار روپے ماہانہ پر فکس کر دیا۔ 30

 جولائی 2025 کو جاری ہونے والے حتمی اعلامیے کے مطابق، غیر ہنر مند مزدور کے لیے 40 ہزار، ہنر مند کے لیے تقریباً 50 ہزار اور اعلیٰ ہنر مند کے لیے 52 ہزار روپے کے قریب اجرت مقرر کی گئی۔

اصل مسئلہ قانون سازی نہیں بلکہ اس کا نفاذ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سندھ کے تقریباً 50 فیصد صنعتی یونٹس اب بھی اپنے ملازمین کو یہ مقررہ اجرت ادا نہیں کر رہے۔ غیر ہنر مند مزدوروں کو آج بھی 30 سے 35 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ قانونی اور اخلاقی طور پر ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ‘تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم’ ہے، جس نے ایک غیر شفاف لیبر مارکیٹ کو جنم دیا ہے۔ بڑی فیکٹریاں براہِ راست ملازمت دینے کے بجائے ٹھیکیداروں کے ذریعے کام کرواتی ہیں۔ یہ ٹھیکیدار کاغذی کارروائی میں تو قانون کی پاسداری دکھاتے ہیں

لیکن حقیقت میں مزدور کی جیب تک پوری رقم نہیں پہنچنے دیتے۔ مزید برآں، سوشل سیکیورٹی  اور ای او بی آئی  میں رجسٹریشن کا فقدان آجروں کو قانونی گرفت سے بچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صنعتی تنظیمیں ایک طرف حکومت سے رعایتیں حاصل کرتی ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی ممبران کو طے شدہ اجرت کی ادائیگی کا پابند بنانے میں ناکام رہتی ہیں۔ دوسری جانب، محکمہ محنت کا انسپکشن نظام بھی بدعنوانی اور سست روی کا شکار ہے،

جس کی وجہ سے یہ قوانین محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک مانیٹرنگ کا نظام شفاف اور سخت نہیں ہوگا، کم سے کم اجرت کے ہر نئے اعلان کا فائدہ براہِ راست محنت کش طبقے تک نہیں پہنچ سکے گا

تعارف : صمیم طارق کا شمار کراچی کے متحرک مزدور رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو خاص طور پر ملی لیبر فیڈریشنکے پلیٹ فارم سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں نمایاں ہیں۔ ان کی شناخت ایک ایسے نقاد اور تجزیہ نگار کی ہے جو لیبر قوانین اور ان کے زمینی حقائق کے درمیان موجود فرق کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp