اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
بھارت میں گھریلو ملازمین بنیادی حقوق اور قانونی تحفظ سے محروم
چنئی ( لیبر نیوز فارن ڈیسک ) بھارت میں گھریلو ملازمین کی ایک بڑی تعداد اب بھی بنیادی مزدوری کے حقوق اور قانونی تحفظ سے محروم ہے، جس کی وجہ سے وہ استحصال اور غیر محفوظ حالاتِ کار کا شکار ہیںکروڑوں گھریلو ورکرز، جن میں اکثریت خواتین کی ہے، کم از کم اجرت، سماجی تحفظ اور کام کے اوقات کے حوالے سے کسی واضح قانون کے دائرے میں نہیں آتے
گھریلو کام کو اکثر غیر رسمی شعبہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس سے آجروں کو من مانی کرنے کا موقع ملتا ہے مزدور تنظیمیں طویل عرصے سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ گھریلو ملازمین کو ورکر کا باقاعدہ درجہ دیا جائے اور انہیں پینشن، طبی سہولیات اور ہفتہ وار چھٹی جیسے حقوق فراہم کیے جائیں۔
لیبر ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ریاست ان گمنام محنت کشوں کے لیے جامع لیبر پالیسی نہیں بناتی، ان کی معاشی اور سماجی زندگی میں بہتری لانا ناممکن رہے گا
