May 28, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: پاکستانی محنت کشوں کے روزگار کو خطرہ ؟

 مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: پاکستانی محنت کشوں کے روزگار کو خطرہ ؟

تحریر ( علی ملک، ایڈیٹر لیبر نیوز ) تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں بارود کی بو پھیلی ہے، اس کی تپش سات سمندر پار بیٹھے ملکوں سے زیادہ پاکستان کے محنت کش گھرانوں کے چولہوں میں محسوس کی گئی ہے۔ آج ایک بار پھر ایران، اسرائیل اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی محض شہ سرخیوں کا حصہ نہیں، بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ایسا خطرہ بن چکی ہے جو ہماری شہ رگ یعنی زرمبادلہ کو کاٹ سکتی ہے۔

حالیہ کشیدگی اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ اگر یہ چنگاری ایک ہمہ گیر جنگ میں بدلی، تو اس کا پہلا شکار وہ لاکھوں پاکستانی محنت کش ہوں گے جو صحراؤں کی دھوپ میں پسینہ بہا کر پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دیے ہوئے ہیں

پاکستان کی معاشی بقاء کا دارومدار کسی عالمی مالیاتی ادارے کے پیکیج سے زیادہ ان دس ملین سمندر پار پاکستانیوں پر ہے، جن میں سے ساٹھ فیصد سے زائد صرف خلیجی ممالک میں مقیم ہیں۔ سعودی عرب کے ترقیاتی منصوبے ہوں یا متحدہ عرب امارات کے بلند و بالا برج، ان کی تعمیر میں پاکستانی خون اور پسینہ شامل ہے۔ سالانہ 25 سے 30 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیجنے والے یہ خاموش ہیرو دراصل وہ ڈھال ہیں جو ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچائے ہوئے ہیں۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر خلیج میں جنگ کے بادل گہرے ہوئے، تو ان محنت کشوں کا کیا بنے گا؟

جنگ کی صورت میں سب سے پہلا کلہاڑا ترقیاتی منصوبوں پر چلتا ہے۔ سرمایہ کار اپنا پیسہ نکالتے ہیں، تعمیراتی کام رک جاتے ہیں اور نوکریوں سے نکالنے کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو براہ راست پاکستانی افرادی قوت کو متاثر کرتا ہے۔ لیبیا اور یمن کے بحرانوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں سے ہزاروں پاکستانیوں کو خالی ہاتھ وطن واپس آنا پڑا تھا۔ آج اگر سعودی عرب یا دبئی سے پروازیں رکتی ہیں یا وہاں روزگار کے مواقع سکڑتے ہیں، تو پاکستان میں بے روزگاری کا وہ سیلاب آئے گا جسے سنبھالنا ریاست کے بس میں نہیں ہوگا

دوسرا بڑا پہلو توانائی کا بحران ہے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ سمندری گزرگاہوں میں معمولی سی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو پہلے ہی بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں پر عوامی غم و غصے کا سامنا کر رہا ہے، تیل کی قیمت میں تھوڑا سا اضافہ بھی معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ رسد کے نظام میں رکاوٹ کا مطلب فیکٹریوں کی بندش، ٹرانسپورٹ کا مہنگا ہونا اور مہنگائی کا وہ طوفان ہے جو عام آدمی کی کمر توڑ دے گا

بدقسمتی سے ہماری حکومتیں دہائیوں سے صرف خلیجی ممالک کے ڈالرز پر تکیہ کیے بیٹھی رہی ہیں۔ ہم نے کبھی متبادل منڈیوں کی طرف اس سنجیدگی سے نہیں دیکھا جو آج کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست محض دعاؤں پر گزارہ کرنے کے بجائے ایک ٹھوس ہنگامی منصوبہ تیار کرے۔

 ہمیں اپنے محنت کشوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے عالمی منڈی میں متعارف کرانا ہوگا تاکہ ہمارا انحصار صرف ایک خطے پر نہ رہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن پاکستان کی معاشی سلامتی کی ضمانت ہے۔ اگر وہاں آگ لگی، تو اس کا دھواں پاکستان کے ہر گھر کی چھت سے اٹھے گا

تعارف:علی ملک سینئیر صحافی اور لیبر نیوز کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ پاکستان اور عالمی سطح پر مزدور تحریک، لیبر پالیسیوں اور محنت کشوں کو درپیش مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اپنے تجزیاتی مضامین اور رپورٹس کے ذریعے محنت کش طبقے کے مسائل کو موثر انداز میں سامنے لانا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ان کی صحافتی جدوجہد کا اہم حصہ ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp