اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
پنجاب لیبر کوڈ 2026 امید کی کرن یا حقوق پر کاری ضرب
تحریر: ( قاضی تحسین احمد ہاشمی) پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں دہائیوں پرانے اور بوسیدہ صنعتی قوانین کو یکجا کر کے ایک نئی دستاویز پنجاب لیبر کوڈ 2026 متعارف کروا دی گئی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک انقلابی قدم ہے، لیکن مزدور حلقوں میں اس حوالے سے ملا جلا ردِعمل پایا جاتا ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ یہ نیا قانون ایک عام مزدور کی زندگی پر کیا اثرات مرتب کرے گا۔
بین الاقوامی مزدور تنظیم اقوام متحدہ کا وہ ادارہ ہے جہاں دنیا بھر کی حکومتیں، سرمایہ کار اور مزدور مل کر کام کے ضوابط طے کرتے ہیں۔
پاکستان چونکہ اس کا رکن ہے، اس لیے عالمی سطح پر کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے 26 مختلف قوانین کو ختم کر کے ایک ‘کوڈ’ کی شکل دی ہے تاکہ مزدوروں کو بین الاقوامی معیار کے حقوق مل سکیں۔
اس قانون کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس نے پہلی بار ان طبقوں کو ‘مزدور’ تسلیم کیا ہے جو اب تک کسی کھاتے میں نہیں تھے گھروں میں کام کرنے والی خواتین، موٹر مکینک اور تعمیراتی مزدور اب قانونی تحفظ کے حقدار ہوں گے
اب کوئی آجر کسی کارکن کو صرف عارضی کہہ کر اس کے حقوق (چھٹی، گریجویٹی) غصب نہیں کر سکے گا ایک ڈیجیٹل شناخت متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے مزدور کہیں بھی کام کرے وہ علاج اور بچوں کی تعلیم کے لیے سرکاری گرانٹ حاصل کر سکے گا۔
پنجاب لیبر کوڈ کے تحت اب غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم اجرت 40,000 روپے مقرر کی گئی ہے، جسے خاندان کی بنیادی ضروریات روٹی، کپڑا، مکان سے مشروط کیا گیا ہے۔
خواتین کے لیے رات کی شفٹ میں کام کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ فیکٹری مالکان محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کریں، اور جہاں 30 سے زائد خواتین ہوں، وہاں ڈے کیئر سینٹر کا قیام لازمی قرار دیا گیا ہے
جہاں ایک طرف مراعات کا ذکر ہے، وہیں مزدور یونینز اس قانون کو ‘دومدھاری تلوار’ قرار دے رہی ہیں الزام ہے کہ یہ قانون بناتے وقت اصل اسٹیک ہولڈرز یعنی مزدور نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا
ہڑتال سے 15 دن پہلے نوٹس کی شرط اور ہڑتال کے دوران متبادل عملہ بھرتی کرنے کی اجازت نے احتجاج کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے جبری مشقت اور بچوں سے مزدوری کروانے والے بااثر مالکان کے لیے سزائیں اتنی سخت نہیں کہ وہ قانون شکنی سے باز رہیں
پنجاب لیبر کوڈ 2026 بلاشبہ ایک بڑی اصلاحاتی کوشش ہے۔ یہ ان لاکھوں بے نام محنت کشوں کے لیے روشنی کی کرن ہے
جو اب تک قانون کی پناہ سے محروم تھے۔ تاہم اگر ہڑتال اور یونین سازی جیسے بنیادی جمہوری حقوق کو کمزور کیا گیا، تو طویل مدت میں مزدور کی آواز دب سکتی ہے
اس قانون کی کامیابی کا دارومدار صرف کاغذوں پر نہیں، بلکہ اس کے شفاف ‘عمل درآمد’ پر ہے۔ اگر حکومت مالکان کے دباؤ سے نکل کر مزدور کے حق کی پاسداری کر سکی، تبھی یہ کوڈ پنجاب کے معاشی انجن کو صحیح معنوں میں طاقت فراہم کرے گا
