July 24, 2026

سماجی و اقتصادی مساوات کا وژن

 سماجی و اقتصادی مساوات کا وژن

تحریر ( محمد خان ابڑو، ممبر گورننگ باڈی، سیسی )  خواتین کے عالمی دن کے موقع پر، یہ صرف ماضی کی کامیابیوں کا جشن منانے کا دن نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر خواتین کے مستقبل کی تشکیل کا نام ہے۔ سیسی کے کردار کو محض سہولیات کی فراہمی سے آگے بڑھ کر فعال بااختیاری تک پھیلنا چاہیے، جہاں ہدف پر مبنی اصلاحات کے ذریعے نظامی چیلنجز کا براہِ راست مقابلہ کیا جا سکے۔

خواتین کا کردار ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے محض الفاظ تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ایسے عالمی معیارات اپنانے چاہئیں جو ان کی حفاظت، ترقی اور کام کی جگہ پر ان کے وقار کو یقینی بنائیں۔ سیسی کا وژن ایک ایسا ماحول تخلیق کرنا ہے جہاں محنت کش خواتین کو براہِ راست سپورٹ سسٹم فراہم کیا جا سکے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ ڈھانچے میں جدید اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسا سماجی اور تعلیمی ماحول بنانا ہے جہاں خواتین کو مساوی مواقع، مناسب اجرت اور تحفظ مل سکے۔ جب خواتین کی زندگی بہتر ہوتی ہے تو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ قومی معیشت بھی تیزی سے ترقی کرتی ہے۔

پاکستان کے صنعتی اور شہری مراکز میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرہ بتدریج مثبت تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سیسی خواتین کی حقوق کے تحفظ، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ ہمیں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے بھی مضبوط کرنے ہیں جو انہیں باعزت ماحول فراہم کر سکیں۔

ہماری ذمہ داری محض سوشل سیکیورٹی تک محدود نہیں، بلکہ یہ سماجی انصاف کا معاملہ ہے۔ ہم ایک ایسے مستقبل کے لیے پرعزم ہیں جہاں خواتین ورک فورس نہ صرف محفوظ ہو، بلکہ ملکی معیشت کے انجن میں ایک برابر اور مربوط شراکت دار ہو۔ حقیقی ترقی ساختی مساوات کی مرہونِ منت ہے۔ ہمارا عزم ایک ایسا ماحول بنانا ہے جہاں ہر محنت کش خاتون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کر سکے

تعارف : مصنف سینئر صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں، جو سندھ کے سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل پر بے باک اور مدلل انداز میں قلم اٹھانے کے لیے پہچانے جاتے ہیں، ان کی تحریروں میں تاریخی شعور، سماجی حساسیت اور عوامی نقطۂ نظر کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے، جس کے باعث ان کا شمار سندھ کے مؤثر اور معتبر قلم کاروں میں کیا جاتا ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
1 Shares

مزید خبریں

WhatsApp