مزدور کی زندگی میں کم از کم اجرت کا المیہ
تحریر: ( اسامہ قذافی ) اسلام آباد کی روشن سڑکوں اور بلند عمارتوں کے سائے میں کھڑے سکیورٹی گارڈ محمد رحمان کی زندگی دراصل پاکستان کے لاکھوں محنت کشوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والا یہ محنت کش جب یہ کہتا ہے کہ “ہم زندگی نہیں گزار رہے، بس سسک سسک کر جی رہے ہیں”، تو اس جملے میں موجود درد پورے معاشی نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ 32 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ میں گھر کا خرچ چلانا، بیمار بچی کا علاج کرانا اور بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرنا بظاہر ایک ناممکن سی بات محسوس ہوتی ہے۔ مگر یہی ناممکن صورتحال پاکستان کے لاکھوں مزدوروں کی روزمرہ حقیقت ہے۔
پاکستان میں کم از کم اجرت کا تعین بنیادی طور پر مینیمم ویجز آرڈیننس 1961 کے تحت کیا گیا تھا، جبکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گیا۔ ہر سال بجٹ کے موقع پر غیر ہنرمند مزدور کے لیے کم از کم اجرت مقرر کی جاتی ہے جو اس وقت مختلف صوبوں میں تقریباً 32 ہزار سے 37 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی ادارہ اس مقررہ حد سے کم تنخواہ نہیں دے سکتا اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ یا قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون اکثر صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتا ہے۔
عملدرآمد کے مسائل کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ لیبر انسپکشن کے نظام کی کمزوری ہے۔ متعدد صنعتی اداروں اور نجی کمپنیوں میں مزدوروں کو قانونی کم از کم اجرت نہیں دی جاتی۔ سکیورٹی کمپنیوں، چھوٹی فیکٹریوں اور غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے مزدور خاص طور پر اس مسئلے کا شکار ہیں۔ کئی جگہوں پر کاغذی ریکارڈ میں مکمل تنخواہ ظاہر کی جاتی ہے، جبکہ عملی طور پر مزدور کو اس سے کم رقم دی جاتی ہے۔ بے روزگاری کے خوف اور معاشی مجبوری کے باعث مزدور اکثر خاموش رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔
محمد رحمان کی مثال اس صورتحال کو واضح کرتی ہے۔ اگر اس کی ماہانہ آمدنی 32 ہزار روپے ہو تو اس میں سے تقریباً 15 ہزار روپے راشن، 8 ہزار روپے علاج اور 5 ہزار روپے بجلی کے بل میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ باقی رہ جانے والی رقم میں بچوں کی تعلیم، کرایہ یا دیگر اخراجات پورے کرنا ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مزدور لنگر خانوں، قرض یا اضافی کام کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ماہرین کے مطابق کم از کم اجرت کے قانون کو مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے مزدوروں کی تنخواہوں کی ادائیگی کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جا سکتا ہے تاکہ ادائیگی کا ریکارڈ شفاف رہے۔ اسی طرح لیبر کورٹس اور شکایتی نظام کو فعال بنانا ضروری ہے تاکہ مزدور آسانی سے اپنے حقوق کے لیے رجوع کر سکیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر سخت جرمانے اور لائسنس کی منسوخی جیسے اقدامات بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں میں آگاہی پیدا کرنا بھی نہایت اہم ہے۔ بہت سے محنت کش اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے استحصال کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ٹریڈ یونینز اور میڈیا اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
محمد رحمان جیسے لاکھوں محنت کش ملک کی معیشت کا بنیادی ستون ہیں۔ اگر ان کی اجرت اور فلاح و بہبود کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو معاشی ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کم از کم اجرت کے قانون کو صرف ایک اعلان یا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بنایا جائے، تاکہ مزدور طبقہ سسکتی زندگی کے بجائے باعزت زندگی گزار سکے۔
