خواتین ورکرز کے مسائل اور سکڑتی ہوئی انڈسٹری
تحریر ( آئمہ محمود ) پاکستان میں 7 کروڑ 69 لاکھ ورکرز ہیں اس لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت تقریباً 25 فیصد ہے اور ان کی شمولیت کے حوالے سے دنیا میں ہمارا نمبر 144 واں ہے 10 فیصد خواتین ہوم بیسڈ ورکرز کے طور پر کام کر رہی ہیں افسوس ہے کہ ہماری انڈسٹری سکڑ رہی ہے اور غیر رسمی شعبے کو فروغ مل رہا ہے جو الارمنگ ہے
اس وقت صرف 3 فیصد مزدور ٹریڈ یونینز کی صورت میں منظم ہیں جبکہ باقی اپنے اس بنیادی حق سے بھی محروم ہیں لہٰذا مزدوروں کے لیے تنظیم سازی کے حق کو آسان بنایا جائے مزدوروں کی بحالی کے لیے ورکرز ویلفیئر فنڈ موجود ہے اور انہیں سوشل سیکیورٹی بھی دی گئی ہے مگر عملی طور پر مسائل جوں کے توں ہیں
پنجاب میں 11 لاکھ مزدور سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے صرف 6 لاکھ کے پاس کارڈ ہیں مالک فارم نہیں دیتا جس کی وجہ سے مزدور اپنے حقوق سے محروم ہے گزشتہ حکومت نے مزدور کارڈ جاری کیا مگر موجودہ حکومت نے اسے روک دیا سیاسی معاملات کا شکار مزدور ہو رہا ہے جو افسوسناک ہے
پنجاب نے مزدور کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار کرنے کا اعلان کیا مگر مزدور کو سرکاری مقرر کردہ کم از کم تنخواہ بھی نہیں ملتی اگر مزدور کو اس کی اجرت بذریعہ بینک ملے تو فائدہ ہو سکتا ہے سیلف اسسمنٹ سکیم کا نقصان یہ ہوا کہ فیکٹری مالکان ملازمین کی اصل تعداد چھپا کر حکومت سے دھوکا کرتے ہیں مانیٹرنگ کا یہ سنگین مسئلہ حل کرنا ہوگا
افسوس ہے کہ جہاں مالک کا فائدہ ہے وہاں کام ہو رہا ہے لیکن جہاں مزدور کا فائدہ ہونا ہوتا ہے وہاں خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے پہلے 5 یا اس سے زیادہ ورکرز پر سوشل سیکیورٹی لازمی ہوتی تھی اب اسے کم از کم 10 ورکرز کر دیا گیا ہے جس سے لاکھوں مزدور علاج معالجے کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں صرف فیصل آباد میں متاثرین کی تعداد 6 لاکھ ہے
ملکی سیاسی اور معاشی مسائل کی وجہ سے انڈسٹری بند ہو رہی ہے صورتحال بہت خراب ہے ایسے میں ضرورت ہے کہ ورکرز اور تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل سہ فریقی کانفرنس بلائی جائے یہ ہمارا حق ہے اور حکومت اس کی پابند ہے مگر کئی برسوں سے یہ کانفرنس نہیں ہوئی مزدور کا کوئی پرسان حال نہیں ہے
پاکستان زرعی ملک ہے اور یہاں کی 44 فیصد لیبر اسی شعبے سے وابستہ ہے مگر ان پر لیبر لاء کا اطلاق نہیں ہوتا زرعی ملک میں آٹا نہیں مل رہا اور مزدور آٹے کی لائنوں میں زندگی گنوا رہے ہیں میری تجویز یہ ہے کہ فیکٹریوں میں جو فیئر پرائس شاپس قائم ہیں وہاں پر سستا آٹا فراہم کیا جائے تاکہ مزدور کی عزت برقرار رہے
مہنگائی کے پیش نظر مزدوروں مالکان اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کو مل کر حکمت عملی تیار کرنا ہوگی لیبر کا ڈیٹا نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے اسی لیے خواتین کی شمولیت کے اعداد و شمار کم ہیں ہمیں 1954 کے فیکٹری ایکٹ کو اپ گریڈ کرنا ہوگا اور ہوم بیسڈ و ڈومیسٹک ورکرز کے قوانین کو آئی ایل او کی ریزولوشنز کے مطابق یکجا کرنا ہوگا
ڈومیسٹک ورکرز کو سہولت دینے کے لیے سوشل سیکیورٹی نے رولز بنا لیے ہیں یہ ورکرز ماہانہ 300 روپے ادارے کو دیں گے جس کے بدلے انہیں اور ان کے خاندان کو علاج معالجے کی سہولت ملے گی سوشل سیکیورٹی نے محنت کشوں کو تاحیات صحت کی سہولیات دینے کا قانون بنا لیا ہے جس کی کابینہ سے منظوری باقی ہے
ورکرز ویلفیئر بورڈ میں شادی گرانٹ کو 2 لاکھ سے بڑھا کر 4 لاکھ اور ڈیتھ گرانٹ کو 6 سے بڑھا کر 8 لاکھ کر دیا گیا ہے اور واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کو ختم کیا جا رہا ہے ان قوانین پر صحیح معنوں میں عملدرآمد سے ہی مزدوروں کی زندگی بدلی جا سکتی ہے جس کے اچھے اثرات ملکی معیشت پر ہوں گے
