بھٹو اور مزدور
تحریر ( اطہر شریف ) پاکستان کی تاریخ میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر متعارف کرانے اور اسے سرکاری تعطیل قرار دینے کا سہرا قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے ایوب خان کے دس سالہ دور میں صنعتی ترقی کا فائدہ محض چند خاندانوں تک محدود تھا اور دولت کی تقسیم غیر منصفانہ تھی جس کے خلاف بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر ملک بھر کے محنت کشوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا
بھٹو نے سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے سے مزدور کو نکالنے کے لیے 10 نومبر 1972 کو پہلی جامع لیبر پالیسی دی جس نے محنت کشوں کی حالت زار بدل کر رکھ دی اس پالیسی کے تحت مزدوروں کے منافع میں حصے کو ڈھائی فیصد سے بڑھا کر چار فیصد کر دیا گیا اور پہلی بار مزدوروں کو یہ حق ملا کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے لیبر عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا سکیں
بھٹو دور کی انقلابی اصلاحات میں سوشل سیکیورٹی اداروں اور ہسپتالوں کا قیام شامل تھا تاکہ مزدوروں کو مفت طبی سہولیات میسر آ سکیں انہوں نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے ذریعے مزدوروں کی رہائش کے لیے فنڈز فراہم کیے اور تاریخ میں پہلی بار مزدور کے ایک بچے کے لیے میٹرک تک مفت تعلیم کی ذمہ داری ریاست نے اٹھائی جس میں فیسوں کی معافی اور درسی کتب کی فراہمی بھی شامل تھی
بڑھاپے میں مزدور کا سہارا بننے کے لیے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس ایکٹ 1976 لایا گیا جس کے تحت آج بھی لاکھوں ریٹائرڈ محنت کش پنشن حاصل کر رہے ہیں بھٹو نے نہ صرف ملک کے اندر اصلاحات کیں بلکہ مشرق وسطیٰ کے دروازے بھی پاکستانی لیبر کے لیے کھول دیے جس سے ملک میں زر مبادلہ کی ریل پیل ہوئی اور لاکھوں خاندانوں کی زندگی بدل گئی
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں ٹریڈ یونینوں پر عائد پابندی ختم کی اور سابقہ ادوار میں نکالے گئے 40 ہزار صنعتی ملازمین کو بحال کر کے تاریخ رقم کی ان کے دور میں دو بار اجرتوں میں اضافہ کیا گیا اور مزدوروں کو کاروبار کی آمدنی میں حصہ دار بنایا گیا
پیپلز پارٹی نے 2011 میں سرکاری کارپوریشنوں کے ساڑھے سات فیصد شیئرز مزدوروں کے نام کر دیے جس سے او جی ڈی سی ایل جیسے اداروں کے ورکرز کو لاکھوں روپے کا فائدہ پہنچا اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے 2018 میں سندھ حکومت نے پہلی صوبائی لیبر پالیسی دی جس میں خواتین اور کانکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں
آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزدوروں کے لیے بینظیر مزدور کارڈ اور مفت فلیٹس کی تقسیم جیسے منصوبے شروع کر کے ثابت کر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی ہی محنت کشوں کی حقیقی نمائندہ ہے بھٹو کا فلسفہ اسلامی سوشلزم دراصل قائد اعظم کے اس وژن کی عکاسی تھا جس میں ایک فلاحی ریاست کا خواب دیکھا گیا تھا
بھٹو نے کہا تھا کہ میرا نام تاریخ کے دل میں دھڑکتا رہے گا اور آج بھی پاکستان کا مزدور کسان اپنے اس عظیم لیڈر کو یاد کرتا ہے جس نے اسے زبان دی شعور دیا اور معاشرے میں عزت سے جینے کا حق دیا بھٹو کہتے تھے کہ میں ہر اس گھر میں رہتا ہوں جس کی چھت برسات میں ٹپکتی ہے اور ان کی یہی سوچ آج بھی مزدور تحریک کی روح ہے
