اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
یو اے ای نے بین الاقوامی جبری مشقت پروٹوکول کی توثیق کر دی
ابو ظہبی ( زین علی، نمائندہ لیبر نیوز متحدہ عرب امارات ) متحدہ عرب امارات نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے جبری مشقت پروٹوکول کو باقاعدہ طور پر توثیق کر دیا ہے، جس کے بعد یو اے ای 63ویں ملک بن گیا ہے جس نے اس بین الاقوامی معاہدے کی منظوری دی ہے
پروٹوکول 1930 کی جبری مشقت کنونشن کا حصہ ہے اور اس کا مقصد ہر شکل کی جبری مشقت، بشمول انسانی اسمگلنگ، قرض کے باندھنا یا جبری گھریلو مزدوری کے خلاف قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق شامل ممالک مجبور محنت کے خلاف اقدامات اٹھائیں گے، مجرموں کو سزا دیں گے اور متاثرین کو انصاف تک رسائی اور قانونی امداد فراہم کریں گے
یو اے ای کی نمائندہ نے کہا کہ اس اقدام سے ملک کا مزدور حقوق کے تحفظ اور بنیادی اصولوں پر عملدرآمد کا عزم ظاہر ہوتا ہے، خاص طور پر جب یہاں 200 سے زائد قومیتوں کے کارکن کام اور زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی ادارۂ محنت کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اس توثیق کو خوش آئند قرار دیا ہے یہ پروٹوکول ایک سال بعد یو اے ای میں لاگو ہو جائے گا
