کانگریس کا مودی حکومت پر مزدور مخالف لیبر کوڈز کا الزام، پارلیمنٹ میں احتجاج
نئی دہلی ( لیبر نیوز ویب دیسک ) کانگریس نے مودی حکومت کے حال ہی میں نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کو مزدور مخالف قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ پارٹی صدر ملکارجن کھرگے، سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مظاہرہ کیا۔
کھرگے نے الزام لگایا کہ نئے لیبر ضابطوں نے ملازمت کی سلامتی اور استحکام کو کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھنٹی کی حد 100 سے بڑھا کر 300 مزدور کر دی گئی ہے، جس کے بعد ملک کی 80 فیصد سے زائد فیکٹریاں حکومتی منظوری کے بغیر ملازمین کو فارغ کر سکیں گی۔ یہ اقدام لاکھوں محنت کشوں کے روزگار کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقررہ مدت ملازمت کے فروغ سے مستقل نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جب کہ کمپنیوں کو قلیل مدتی معاہدوں پر بھرتی کی کھلی اجازت مل گئی ہے۔ کھرگے کے مطابق کوڈ میں بظاہر 8 گھنٹے ڈیوٹی کا ذکر ہے لیکن 12 گھنٹے کی شفٹیں بھی نافذ ہو سکتی ہیں، جو محنت کشوں کی صحت اور تحفظ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ نئے قواعد تارکینِ وطن مزدوروں کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتے اور 18 ہزار روپے ماہانہ آمدنی کی حد برقرار رکھنے سے لاکھوں محنت کش سماجی تحفظ سے محروم رہ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 21 نومبر سے چاروں لیبر کوڈز نافذ کیے ہیں، جنہیں حکومت مزدور دوست اصلاحات قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن انہیں محنت کشوں کے حقوق پر حملہ سمجھتی ہے۔
