آلبرٹا میں مزدور تنظیموں کا احتجاج، محنت کش اساتذہ کے حقوق محدود کرنے پر سخت ردِعمل
آلبرٹا (نمائندہ، اسمعیل اثر) کینیڈا کے مغربی صوبہ آلبرٹا کی حکومت کی جانب سے اساتذہ کو جبری طور پر کام پر واپس لانے اور آئینی حقوق کو محدود کرنے کے اقدام کے خلاف مزدور تنظیموں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے، جبکہ مزدور اتحاد نے ممکنہ عام ہڑتال کا اشارہ بھی دیا ہے۔
آلبرٹا فیڈریشن آف لیبر کے صدر گل میک گاون نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بل نمبر 2 منظور کر کے اساتذہ پر جبری معاہدہ مسلط کیا گیا اور انہیں کام پر واپس لایا گیا، جس میں آئینی حقوق معطل کرنے والی شِق بھی استعمال کی گئی۔ ان کے مطابق یہ قدم اجتماعی قوت اور آزادیِ اجتماع جیسے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ صوبے کی 24 بڑی مزدور تنظیموں پر مشتمل اتحاد کامن فرنٹ اس اقدام کے خلاف منظم مہم شروع کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایک ممکنہ عام ہڑتال کی سمت منظم ہونے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔‘‘
مزدور اتحاد کے مطابق دستخط شدہ یکجہتی معاہدے کے تحت تمام تنظیمیں مشترکہ کارروائی کے لیے تیار ہیں، تاہم عام ہڑتال کا کوئی حتمی اعلان یا وقت نہیں دیا گیا۔ گل میک گاون نے کہا کہ حکومت نے جب آئینی شق کا استعمال کرتے ہوئے اساتذہ کے جمہوری حقوق سلب کیے تو اس نے ’’سوئے ہوئے دیو‘‘ کو بیدار کر دیا، اور اب پورے ملک کی مزدور تحریک پہلے سے زیادہ متحد ہو رہی ہے۔
