اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
تعلیمی اسکیم کی پیچیدہ پالیسیوں کے خلاف آل سندھ ورکرز فیڈریشن کا شدید احتجاج
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) آل سندھ ورکرز فیڈریشن نے ورکر ویلفیئر بورڈ کی جانب سے مزدوروں کے بچوں کی تعلیمی اسکیم کے لیے اختیار کیے گئے حالیہ طریقہ کار اور تادیبی پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری عبدالستار نیازی، محمد رفیق اعوان اور صدر جاوید اختر نے سیکریٹری ورکر ویلفیئر بورڈ، صوبائی وزیرِ محنت سعید غنی اور چیف سیکریٹری سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کوئی خیرات نہیں بلکہ ان کا آئینی حق ہے، لہٰذا دفتری رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں اس سے محروم نہ کیا جائے۔
مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کے باوجود فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 2 جولائی مقرر کرنا سراسر ناانصافی ہے، جس کی وجہ سے پرنسپل سے تصدیق کرانا ناممکن ہو گیا ہے۔
پرنسپل کی تصدیق کے بعد بے فارم، ایف آر سی اور رزلٹ کارڈ جیسی غیر ضروری دستاویزات مانگنا صرف مزدوروں کو ذہنی اذیت دینے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کتابیں اور یونیفارم بند کر کے محض 10 ہزار روپے سالانہ 833 روپے ماہانہ دینے اور بقایاجات دو دو سال روکنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تاریخ میں توسیع، تعلیمی امداد میں اضافے اور سابقہ آسان نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، بصورتِ دیگر عدالت اور احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا
