اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
میانمار میں فوجی جبر کے سائے تلے ٹریڈ یونینز کی جدوجہد جاری
ینگون ( لیبر نیوز فارن ڈیسک ) میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے محنت کشوں کے حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، جہاں ٹریڈ یونینز کو شدید جبر اور ریاستی تشدد کا سامنا ہے۔ عالمی لیبر فیڈریشن انڈسٹری آل کے مطابق میانمار کی لیبر تحریکیں جان لیوا خطرات کے باوجود ورکرز کے حقوق کے دفاع کے لیے سرگرم عمل ہیں
فوجی جنتا نے ملک کی بڑی لیبر تنظیموں کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے رہنماؤں کو گرفتار اور ہراساں کرنا شروع کر رکھا ہے، جس کا مقصد صنعتی شعبے میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا ہے۔ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان اور فوجی انتظامیہ کی ملی بھگت سے مزدوروں کا استحصال بڑھ گیا ہے، جبکہ اجرتوں میں کمی اور جبری مشقت جیسے مسائل عام ہو چکے ہیں
عالمی برادری اور بین الاقوامی برانڈز پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ میانمار سے اپنے کاروباری تعلقات کو انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کریں تاکہ وہاں کے محنت کشوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ میانمار کی یونینز کا عزم ہے کہ وہ جمہوریت کی بحالی اور معاشی انصاف تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
