اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
مزدور یونینز کا بیلجیئم کی وفاقی حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ
برسلز ( مہوش ظفر، نمائندہ لیبر نیوز جرمنی ) بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں پینشن اصلاحات کے متنازع معاملے پر مزدور تنظیموں اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے
بڑی ٹریڈ یونینز نے حکومت کی جانب سے پینشن کی شرائط میں تبدیلی اور ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی ممکنہ کوششوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کی کال دے دی ہے۔
یونین رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ حکومت کی مجوزہ اصلاحات محنت کشوں، خاص طور پر سخت مشقت کرنے والے افراد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالنے کے بجائے متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں
مظاہرے کے منتظمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اپنے فیصلے واپس نہ لیے تو ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی سہولیات معطل کر دی جائیں گی۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ پینشن سسٹم کو طویل مدت کے لیے مستحکم بنانے کے لیے یہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں، تاہم عوامی حلقوں اور مزدور نمائندوں میں اس حوالے سے شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ برسلز میں ہونے والا یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
