اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
بجٹ اور مزدور دشمن پالیسیاں
محمد سلیم
پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سالانہ بجٹ کا سیزن آتا ہے، ملک کے ایوانوں میں بیٹھی سرمایہ دار اشرافیہ اور مقتدر حلقے اعداد و شمار کی ایسی گورکھ دھند پیش کرتے ہیں جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
ہر سال عوام کو یہ دلاسہ دیا جاتا ہے کہ آنے والا بجٹ ان کی تقدیر بدل دے گا، لیکن جب حقیقت سامنے آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بجٹ غریبوں کو ریلیف دینے کے لیے نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط پر سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور کارپوریٹ مافیا کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔
موجودہ بجٹ بھی اسی فرسودہ اور استحصالی سوچ کا تسلسل نظر آتا ہے، جس کے خلاف پاکستان انقلابی پارٹی ملک گیر سطح پر محنت کشوں کی آواز بن کر کھڑی ہے۔
آج ملک کے طول و عرض میں غریب، مظلوم، محنت کش، ہاری، کسان، خواتین اور طلبہ جس کسمپرسی اور معاشی جبر کا شکار ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
کراچی میں مختلف وفود اور ٹریڈ یونین رہنماؤں سے بات چیت کے دوران جب ہم نے عوامی مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیا، تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ پاکستان کا مزدور اب زندہ نہیں ہے بلکہ محض سانسیں لینے پر مجبور ہے
متوسط اور دیہاڑی دار طبقہ مہنگائی کے اس ہولناک بوجھ تلے مکمل طور پر دب چکا ہے جہاں دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی کے نرخوں اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اور مسلسل اضافے نے نہ صرف گھریلو بجٹ کو تباہ کیا ہے، بلکہ ملکی صنعت و زراعت کا پہیہ بھی جام کر دیا ہے
ایک ایسی ریاست جو خود کو اسلامی اور فلاحی کہلواتی ہو، وہاں کی اولین ترجیح اپنے غریب شہریوں، بیواؤں، یتیموں اور پسے ہوئے طبقات کو معاشی تحفظ فراہم کرنا ہونی چاہیے۔
حکومتِ وقت کی یہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ بجٹ میں روایتی عیاشیوں اور اشرافیہ کی سستے داموں مراعات کو ختم کر کے، تمام تر وسائل غریب و مظلوم عوام کو براہِ راست ریلیف دینے پر مرکوز کرے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر اس بجٹ کو حقیقی معنوں میں عوام دوست بنائے اور پٹرول، بجلی، گیس سمیت روزمرہ کے کھانے پینے کی تمام اشیاءِ خوردونوش کی قیمتوں میں نمایاں اور پائیدار کمی کا اعلان کرے۔
جب تک آٹے، دال، چینی اور گھی جیسی بنیادی چیزیں ایک عام مزدور کی پہنچ میں نہیں ہوں گی، تب تک کسی بھی معاشی ترقی کا دعویٰ جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔
ہمارا زرعی شعبہ، جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اجارہ داروں کے چنگل میں ہے۔ ہاری اور کسان دن رات تپتی دھوپ میں خون پسینہ بہاتے ہیں، لیکن فصل تیار ہونے پر منافع آڑھتی اور جاگیردار کی جیب میں چلا جاتا ہے۔
یہی حال صنعتی مزدور کا ہے، جس کی اجرت مہنگائی کے تناسب سے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ اس بجٹ میں ہاریوں کے لیے سستی کھاد، بیج اور بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا اور صنعتی مزدوروں کی کم از کم تنخواہ کو موجودہ مہنگائی کے انڈیکس کے مطابق مقرر کرنا ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ، ملک کی نصف آبادی یعنی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور طلبہ کے لیے مفت و معیاری تعلیم اور وظائف کی فراہمی کے لیے بجٹ میں خطیر رقم مختص کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
موجودہ حکمران طبقہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ غریب کی تذلیل اور معاشی استحصال کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے، اور جب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پاکستان انقلابی پارٹی ملک کے اس آٹھ کروڑ سے زائد محنت کش طبقے کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ اس پولیٹیکل اور اکنامک سیٹ اپ کے اندر رہتے ہوئے آپ کے مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں ہے۔ موجودہ پارلیمانی پارٹیاں صرف چہرے بدلتی ہیں، نظام نہیں بدلتی۔
سرمایہ دارانہ ہٹ دھرمی، آئی ایم ایف کی غلامی اور اشرافیہ کی اس لوٹ مار کا حقیقی اور حتمی علاج صرف اور صرف ایک عوامی جمہوری انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے
ایک ایسا انقلابی نظام، جہاں کارخانوں کے مالک مزدور ہوں، زمینوں کے مالک ہاری ہوں، اور فیصلے واشنگٹن یا آئی ایم ایف کے دفاتر کے بجائے پاکستان کے عوام خود کریں
ہماری جدوجہد اسی عوامی جمہوری انقلاب کے لیے ہے، اور ہم ہر محاذ پر، ہر گلی، کوچے اور کارخانے میں غریب و مظلوم عوام کے حقوق کی جنگ آخری سانس تک لڑتے رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ محنت کش طبقہ متحد ہو کر اس استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے
تعارف : محمد سلیم پاکستان کے معروف مزدور رہنما اور پاکستان فیڈرشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے صدر ہیں مصنف کیمیکل، توانائی اور مائنز سیکٹر سے وابستہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، لیبر قوانین کے نفاذ اور صنعتی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی مزدور تحریک میں اپنی جدوجہد، مؤثر قیادت اور محنت کشوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں
