اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
جب ریٹائرڈ محنت کش بوجھ بن جائیں
محبوب الہی
———-
دنیا میں محنت کشوں کی دو اقسام ہوتی ہے ایک وہ جو محض نوکری کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنی جوانی، صحت اور پوری زندگی ادارے کے نام لکھ دیتے ہیں
پہلی قسم کے لوگ تو آسانی سے ریٹائر ہو جاتے ہیں، مگر دوسری قسم کے وفادار ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے
عام طور پر ہمارے ہاں ادارے اپنے ملازمین کو صرف اس وقت تک یاد رکھتے ہیں جب تک وہ کام کے قابل ہوتے ہیں، اور جیسے ہی ان کے بال سفید ہوتے ہیں اور سروس بک بند ہوتی ہے، ویسے ہی ان کی وفاداری کی فائل بھی بند کر دی جاتی ہے
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کی کہانی بھی اس بے حسی کی ایک واضع مثال ہے، جنہوں نے عمر بھر خاندان سے زیادہ ادارے کو وقت دیا، عیدیں اور راتیں قربان کیں، مگر بڑھاپے میں ان کے لیے ایک نیا اور کٹھن امتحان شروع ہو گیا ہے۔
ان بزرگ ملازمین کو ملنے والی پینشن برسوں سے ایک ہی جگہ کھڑی ہے، جبکہ ملک میں مہنگائی روز بروز دوڑ رہی ہے۔ دوائیوں کی قیمتیں، بجلی کے بل اور گھر کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، مگر پینشن کی رقم وقت کے ساتھ منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔
پینشن کے ساتھ ساتھ گروپ انشورنس کا معاملہ بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے، جس کے آڈٹ، تفصیلات اور حساب کتاب کا کچھ پتہ نہیں اور یہ سوالات برسوں سے فضا میں معلق ہیں۔ یہی صورتحال میڈیکل کی سہولیات کی بھی ہے، جہاں پہلے علاج کے لیے دروازے کھلتے تھے
وہاں اب فارموں، راہداریوں اور منظوریوں کی ایک طویل بھول بھلیاں بنا دی گئی ہے۔ ملازمین کو ای آر پی کے نظام سے نکال کر اسٹیٹ لائف انشورنس کے حوالے تو کیا گیا، مگر بیمار بزرگوں کو دوائی دینے کے بجائے فائلوں کی سیاحت کرائی جا رہی ہے
دوسری جانب پینشن فنڈ کی مالی حالت اور اس کے مستقبل کے آڈٹ پر بھی انتظامیہ کی طرف سے صرف خاموشی اختیار کی گئی ہے سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس معاملے پر عدالتِ عالیہ اپنا واضح فیصلہ دے چکی ہے اور قانون نے انصاف کا مؤقف لکھ دیا ہے
لیکن پی آئی اے انتظامیہ اب بھی اس طرح بیٹھی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے صرف عدالتوں کے لیے ہوتے ہیں اور عمل درآمد کسی اور دنیا میں ہونا ہے۔
جب عدالتی فیصلے بھی فائلوں میں قید ہو جائیں، تو یہ مسئلہ قانون کا نہیں بلکہ نیت کا بن جاتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ زندگی بھر قواعد و ضوابط کا احترام کرنے والے یہ ضعیف، بیمار اور تھکے ہوئے ملازمین اب عدالت عالیہ میں توہینِ عدالت کنٹیمپٹ آف کورٹ کی درخواست دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ عدالت کو اس کا اپنا فیصلہ یاد دلایا جا سکے
یہ محض ایک مالی بوجھ یا معاشی نقصان کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پورے نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔ کسی بھی ادارے کی تباہی اس وقت شروع نہیں ہوتی جب وہ مالی خسارے میں جاتا ہے،
بلکہ تباہی تب ہوتی ہے جب وہ اپنے محسنوں کو بھول جائے، جب پینشن ایک احسان، میڈیکل ایک امتحان اور گروپ انشورنس ایک معمہ بن کر رہ جائے۔
قومیں وسائل کی کمی سے نہیں، بلکہ اپنے بزرگوں کی قدر چھوڑنے سے کمزور ہوتی ہیں، کیونکہ ادارے عمارتوں سے نہیں انسانوں سے چلتے ہیں، اور جو ادارے اپنے بزرگوں کو بھلا دیتے ہیں، وقت ایک دن انہیں بھی تاریخ کے صفحات سے مٹا دیتا ہے۔
تعارف: محبوب الہیٰ سینئر مزدور رہنما اور مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کراچی کے صدر ہیں وہ طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ زیرِ بالا کالم میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش سنگین معاشی اور طبی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو برسوں کی خدمت کے باوجود آج حکومتی اور انتظامی بے حسی کا شکار ہیں
