اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
قتلِ عام 1972: مزدوروں کے خون سے لکھی گئی تاریخِ جدوجہد
عمران علی
پاکستان کی مزدور تحریک کی تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور استقامت کی ایک طویل داستان ہے جس میں جون 1972 کا کراچی قتلِ عام ایک انتہائی دردناک اور فیصلہ کن باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
یہ واقعہ محض چند مزدوروں کی ہلاکت نہیں تھا بلکہ یہ اس پورے طبقاتی نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں محنت کش اپنی بقا، عزت اور حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں طاقت اور جبر کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
1971 کے بعد کے پاکستان میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوا تھا اور مزدور طبقے میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ مگر صنعتی حقیقتیں اس امید کے برعکس تھیں۔
کراچی کے بڑے صنعتی زونز خصوصاً لانڈھی، کورنگی انڈسٹریل ایریا لانڈھی انڈسٹریل ایریا، سائٹ انڈسٹریل ایریا میں مزدور انتہائی کٹھن حالات میں کام کر رہے تھے۔
یہ تمام علاقے کراچی کے مشرقی اور مغربی صنعتی بیلٹ کے مرکزی حصے تھے جہاں ٹیکسٹائل، کیمیکل، انجینئرنگ اور دیگر بھاری صنعتیں قائم تھیں اور ہزاروں مزدور ان سے وابستہ تھے۔
7 جون 1972 کو انہی صنعتی علاقوں میں ہزاروں مزدورں نے اپنے بنیادی مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کے مطالبات کوئی غیر معمولی یا سیاسی نعرے نہیں تھے
بلکہ زندگی کے بنیادی حقائق تھے جن میں بہتر اجرت، ملازمت کا تحفظ، یونین کی قانونی پہچان اور کام کے بہتر حالات شامل تھے مزدوروں کی یہ تحریک مکمل طور پر پرامن تھی اور وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل کا حل چاہتے تھے
تاہم اس پرامن جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس اور دیگر ریاستی اداروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور حالات اس وقت انتہائی افسوسناک صورت اختیار کر گئے جب فائرنگ کی گئی
اس دوران اہم جھڑپیں اور واقعات کراچی کے مختلف صنعتی علاقوں میں پیش آئے جنہیں لانڈھی–کورنگی اور سائٹ انڈسٹریل کہا جاتا ہے۔ ان فلیش پوائنٹس میں لانڈھی انڈسٹریل ایریا، کورنگی انڈسٹریل ایریا، کورنگی کراسنگ، لانڈھی ٹاؤن کے ملحقہ صنعتی یونٹس اور سائٹ انڈسٹریل ایریا کے داخلی و خارجی راستے شامل تھے
انہی مقامات پر مزدوروں اور ریاستی اداروں کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا جس کے نتیجے میں متعدد مزدور موقع پر شہید ہوئے اور درجنوں زخمی ہو گئے جبکہ کراچی کی سڑکیں مزدوروں کے خون سے رنگین ہو گئیں۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی انتہائی اہم ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب حکومت خود کو عوام دوست اور مزدور نواز نظریات کی حامل قرار دے رہی تھی
مگر زمینی حقیقت یہ تھی کہ مزدور طبقہ آج بھی اسی استحصالی نظام کے سامنے بے بس تھا۔ اس سانحے نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی کہ محض نعروں اور دعوؤں سے تبدیلی نہیں آتی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات، انصاف پر مبنی نظام اور طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔
اس قتلِ عام کے بعد پورے ملک میں مزدور طبقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ صنعتی علاقوں میں احتجاجی لہر دوڑ گئی، ٹریڈ یونینز نے اس ظلم کی سخت مذمت کی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا
یہ واقعہ مزدور تحریک کو ختم کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرنے کا سبب بنا۔ مزدوروں نے یہ سبق سیکھا کہ ان کے حقوق کسی عطیے کا نتیجہ نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد، اتحاد اور مسلسل قربانیوں کا ثمر ہیں۔
آج نصف صدی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کراچی قتلِ عام ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار، کم از کم اجرت، سوشل سکیورٹی، پنشن اور یونین سازی جیسے بنیادی حقوق مزدوروں کو کبھی بھی خود بخود نہیں ملے بلکہ یہ سب کچھ طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے
کراچی کے شہداء نے اپنے خون سے یہ پیغام دیا کہ انصاف اور برابری کی آواز کو طاقت کے ذریعے ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
ان شہداء کی قربانیاں آج بھی مزدور تحریک کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی ہیں کہ حقوق صرف اتحاد، تنظیم اور مسلسل جدوجہد سے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں
کراچی کے ان مزدور شہداء کو سرخ سلام جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی مزدور تاریخ کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا
تعارف : عمران علی پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری ہیں وہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول کے رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور صنعتی شعبے سے وابستہ محنت کشوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مزدوروں کی فلاحی اسکیموں میں موجود نظامی خرابیوں اور انتظامی بحران پر آواز بلند رکھتے ہیں
