اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
سیاسی ترامیم اور مزدور کے لیئے ڈگڈگی
آدم عباس
جب سماج کے اندر کسی مخصوص اشارے پر ایک بے مقصد بھونچال اور ہیجان کی کیفیت جنم لیتی ہے، تو اکثر لوگ اس کے سحر میں مبتلا ہو کر اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔
کچھ لوگ اس لہر کے حق میں ہوتے ہیں اور کچھ اس سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا الگ راگ الاپتے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں ہی ایک ہی دائرے کے گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس سارے شور شرابے میں بہت کم لوگ یہ بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ اس ہنگامے کے ختم ہونے کے بعد زمین پر کیا بدلے گا۔ پ
اکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں اٹھارہویں یا مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم، مرکزیت یا غیر مرکزیت جیسے سوالات اپنی جگہ اہم انتظامی بحث ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں ملک کے اصل اور بنیادی مسائل کا مکمل جواب سمجھ لینا ایک بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔
اختیارات کا مرکز اسلام آباد ہو یا کوئی صوبائی دارالحکومت، قانون کی کتاب میں چند شقیں بدل جانے یا وسائل کی تقسیم کا فارمولا تبدیل ہونے سے کاغذ پر تو بہت کچھ بدل جاتا ہے، مگر حقیقی زندگی اسی وقت بدلتی ہے جب طاقت کے مراکز اپنی ترجیحات بدلنے پر آمادہ ہوں۔
اصل معاشی اور سماجی سوال یہ نہیں ہے کہ اختیار کس کے پاس ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اگر ریاست کی ترجیح ملک میں صنعت کاری کو فروغ دینا، میرٹ کو مضبوط کرنا، اور شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو نعروں کے بجائے عمل کا حصہ بنانا ہو، تو نظام کی شکل کچھ بھی ہو، تبدیلی اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔
جب زمین پر پسینہ بہانے والے کسان اور محنت کرنے والے مزدور کو اس کا جائز حق ملنے لگے، اور جاگیردارانہ نظام کے ساتھ موروثی طاقت کے قلعوں کو گرانے کا حقیقی ارادہ موجود ہو، تو آئین کے الفاظ محض شقیں نہیں رہتے بلکہ معاشرے میں ایک نئی توانائی پیدا کرتے ہیں۔
لیکن اس کے برعکس، اگر طاقت کا مقصد صرف اقتدار کو محفوظ رکھنا، اداروں کے بجائے مخصوص خاندانوں کو مضبوط کرنا اور معیشت کو پیداوار کے بجائے رینٹ، کمیشن اور اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ پر چلانا ہو، تو اختیار چاہے مرکز کے پاس ہو یا صوبے کے پاس، نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہم دہائیوں سے دیکھتے آئے ہیں۔
اس صورت میں کسان زمین سے جڑا رہنے کے باوجود اس کا مالک نہیں بن پاتا، مزدور شہر تو بناتا ہے مگر خود شہر کی پناہ سے محروم رہتا ہے، اور نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے بے سمت کھڑا رہتا ہے۔
موجودہ تناظر میں یہ واضح ہے کہ اصل لڑائی آئینی شقوں کی نہیں بلکہ سماجی ترجیحات اور ارادوں کی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اقتدار کا دروازہ کہاں کھلتا ہے، بلکہ اصل مسئلہ اس دروازے کے اندر بیٹھے ہوئے حکمران ذہن کا ہے کہ وہ کس سماجی خواب کو حقیقت بنانا چاہتا ہے۔
اگر خواب ایک جدید، صنعتی اور منصفانہ معاشرے کا ہے تو راستے خود بخود نکل آئیں گے، لیکن اگر مقصد صرف اقتدار کے پرانے محلوں کی مرمت اور آرائش ہے،
تو نئی ترمیمیں بھی پرانے زخموں پر صرف نیا رنگ ثابت ہوں گی۔ آئین صرف ایک نقشہ فراہم کرتا ہے، منزل نہیں؛ اور قانون راستہ دکھاتا ہے، سفر خود نہیں کرتا۔ ادارے محض ایک ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں، لیکن اس میں روح تب پیدا ہوتی ہے جب ریاست اپنے کمزور شہری کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، جہاں سماج کا معیارِ عزت خاندان یا نسب کے بجائے قابلیت اور کردار کو مانا جائے۔
لہٰذا، آج مزدور کا اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی نئی آئینی ترمیم آئے گی یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کا طاقتور طبقہ واقعی کوئی ساختاری تبدیلی چاہتا ہے یا صرف تبدیلی کے فریب میں روایتی ڈھانچوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے؟
کیا وہ ایک صنعتی پاکستان بنانا چاہتے ہیں یا صرف انتظامی تبدیلیاں لا کر وقتی شور پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف آئینی ترمیموں کے سہارے نہیں اٹھتیں،
بلکہ وہ اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے طاقت کے مراکز ماضی کے بوجھ کو چھوڑ کر مستقبل کے امکانات کو اپنانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
جب یہ حقیقی فیصلہ ہو جائے، تو مرکز، صوبہ، قانون اور دفاتر سب اپنے درست مقام پر آ جاتے ہیں اور ریاست محض ایک حکومت نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد بن جاتی ہے
تعارف : آدم عباس ممتاز دانشور، مصنف، مترجم اور ترقی پسند نظریاتی استاد ہیں وہ طویل عرصے سے پاکستان میں مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق، اور ان میں اجتماعی سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے فکری سطح پر سرگرم ہیں پاکستان میں محنت کشوں کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرنے والے چند گنے چنے فکری رہنماؤں میں سے ہیں
