اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
بجٹ 2026 سے وابستہ مزدور کی آخری امیدیں
فیصل علی بلوچ
پاکستان میں بجٹ کی آمد آمد ہے اور اس کے ساتھ ہی ملک کے سب سے بڑے اور پسے ہوئے طبقے یعنی محنت کشوں کی سانسیں بھی اٹکی ہوئی ہیں۔
مہنگائی کے موجودہ بدترین دور میں، جہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایک عام مزدور کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
اس معاشی بحران میں سب سے زیادہ نقصان اس لیبر طبقے کا ہو رہا ہے جو صبح سے شام تک خون پسینہ بہانے کے باوجود اپنے بچوں کا پیٹ پالنے سے قاصر ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ وقت زبانی جمع خرچ اور روایتی دلاسوں سے آگے بڑھ کر ملک کے ہر مزدور کو، چاہے وہ سرکاری شعبے سے ہو یا نجی، جینے کا بنیادی حق فراہم کرے۔
حالیہ معاشی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ افراطِ زر نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح کچلا ہے۔ اس صورتحال میں سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجرز، اؤٹ سورسڈ عملہ اور نجی فیکٹریوں یا پاور لومز کے محنت کش معاشی قتل عام کا شکار ہو رہے ہیں
المیہ یہ ہے کہ جب بھی بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا جاتا ہے، تو اس کا فائدہ صرف مستقل سرکاری ملازمین تک محدود رہتا ہے،
جبکہ نجی اداروں اور عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے لاکھوں مزدور اس ریلیف سے محروم رہ جاتے ہیں
اس بجٹ میں کسی بھی تفریق کے بغیر پورے ملک کے لیبر طبقے کو حقیقی اور یکساں ریلیف دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
مزدور تنظیموں اور معاشی ماہرین کی جانب سے اس وقت سب سے بڑا اور پرزور مطالبہ ‘یکساں کم از کم اجرت’ کا سامنے آ رہا ہے۔
موجودہ مہنگائی کے تناظر میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کرنے والے عام مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت فوری طور پر 55,000 روپے مقرر کی جائے
موجودہ اجرتیں نہ صرف اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں بلکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کرتی ہیں۔
حکومت کے لیے صرف قانون بنانا کافی نہیں ہوگا، بلکہ نجی کارخانوں اور فیکٹریوں میں اس اجرت پر سختی سے عمل درآمد کرانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
اجرت کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ ‘مستقل معاشی تحفظ’ کا ہے۔ دونوں سیکٹرز حکومتی و پرائیویٹ میں برسوں سے کام کرنے والے عارضی، کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی اؤٹ سورسڈ ملازمین کو مستقل بنیادوں پر روزگار فراہم کرنے کی پالیسی وضع ہونی چاہیے
جب تک ان محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی، اولڈ ایج بینیفٹس اور پینشن کے دائرے میں نہیں لایا جائے گا، ان کا معاشی مستقبل غیر محفوظ رہے گا۔
فیکٹری مالکان کی جانب سے بغیر واجبات کی ادائیگی کے ملازمین کو نکالنے کے حالیہ واقعات نے اس تحفظ کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
یہ ملک کسی اشرافیہ یا چند بااثر خاندانوں کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ فیکٹریوں، کھیتوں اور سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے انھی لاکھوں محنت کشوں کے خون پسینے سے چلتا ہے
اگر معیشت کا یہ پہیہ چلانے والا ہی بھوک اور بدحالی کا شکار ہو جائے تو کوئی بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا
بجٹ 2026 حکومت کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ سرمایہ داروں اور اشرافیہ کو نوازنے کے روایتی راستے پر چلتی ہے یا ملک کے حقیقی معمار، یعنی مزدور کو اس کا جائز، قانونی اور آئینی حق دے کر معاشی انصاف کی بنیاد رکھتی ہے
تعارف: فیصل علی بلوچ ملی لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر ہیں اور طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول میں رہے ہیں اپنی تحریروں اور کالموں کے ذریعے وہ نہ صرف مزدوروں کے مسائل کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں ان کا کالم سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز سمجھا جاتا ہے
