اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
پی آئی اے نجکاری یا پراپرٹیز؟
عارف روہیلہ
کبھی کبھی کسی قومی ادارے کی اصل معاشی قدر اس کے روایتی کاروبار یا فضائی آپریشنز میں نہیں، بلکہ دہائیوں کے دوران عوامی سرمائے سے حاصل کی گئی اس کی زمینوں، عمارتوں اور دیگر پوشیدہ اثاثوں میں چھپی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ سامنے آتا ہے، تو مبصرین اور عوام کی توجہ صرف طیاروں کی تعداد پر نہیں بلکہ ان قیمتی جائیدادوں پر بھی مرکوز ہو جاتی ہے جو اس ادارے کی ملکیت ہیں۔
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے پیش کیے جانے والے پیکیج میں متعدد قیمتی پراپرٹیز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام کاروباری فیصلہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پسِ منظر میں کئی ایسے بنیادی سوالات موجود ہیں جن کے جوابات سامنے آنا باقی ہیں
دنیا بھر میں جب بھی کسی سرکاری ادارے کی نجکاری کی جاتی ہے، تو سب سے پہلا اور لازمی قدم اس کے تمام اثاثوں کی اصل مارکیٹ ویلیو کا آزادانہ تعین ہوتا ہے۔ اسے ایک سادہ مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس ایک خسارے میں چلنے والی فیکٹری ہو،
لیکن اس فیکٹری کے ساتھ شہر کے سب سے مہنگے مرکز میں سو ایکڑ قیمتی زمین بھی موجود ہو تو کوئی بھی خریدار فیکٹری کے مینوفیکچرنگ بزنس سے زیادہ اس قیمتی زمین کو حاصل کرنے میں دلچسپی رکھے گا۔ پی آئی اے کا معاملہ بھی اس سے مختلف دکھائی نہیں دیتا۔ یہ درست ہے کہ ناقص انتظامی فیصلوں، سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیوں اور بدانتظامی نے اس قومی ایئرلائن کو شدید مالی بحران سے دوچار کیا
لیکن اس کے باوجود ادارے کے پاس موجود جائیدادوں کی مالیت اربوں روپے میں ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ادارہ اپنے آپریشنز میں خسارے کا شکار ہے، تو کیا اس کے مستقل اثاثوں کو بھی خسارے میں ہی شمار کیا جائے گا؟
اگر عالمی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس قسم کے معاملات میں شفافیت کی دو مختلف مثالیں ملتی ہیں۔ سن 1988ء میں جب برطانیہ نے اپنی مشہور ایئرلائن برٹش ایئرویز کی نجکاری کی، تو برطانوی حکومت نے ادارے کی مکمل مالی جانچ پڑتال ڈیو ڈیلیجنس کروائی اور ہر اثاثے کی الگ الگ قیمت مقرر کر کے اسے نجی شعبے کے حوالے کیا
جس سے عوام اور سرمایہ کاروں دونوں کا اعتماد بحال ہوا۔ اس کے برعکس، 1990ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس میں تیز رفتار نجکاری کے دوران کئی بڑے سرکاری ادارے اور ان کی قیمتی زمینیں انتہائی کم قیمتوں پر من پسند نجی ہاتھوں میں منتقل کر دی گئیں
بعد میں یہی اثاثے اربوں ڈالر مالیت کے ثابت ہوئے اور آج بھی روس کی اس نجکاری کو دنیا میں بدترین اقتصادی ناانصافی کی مثال سمجھا جاتا ہے۔ خود پاکستان میں بھی ماضی کے دوران پی ٹی سی ایل اور دیگر صنعتی اداروں کی فروخت پر شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
موجودہ تناظر میں ایک عام پاکستانی کا سوال بالکل سیدھا اور معقول ہے۔ جب حکومت پی آئی اے کے تمام بڑے قرضے اور واجبات پہلے ہی اپنے ذمے لے چکی ہے اور اس کا مالی بوجھ قومی خزانے یعنی عوام نے اٹھایا ہے، تو پھر نجکاری کی اصل قیمت کا تعین کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟
اگر کسی نجی کنسورشیم کو صرف ایک ایئرلائن نہیں بلکہ اس کے ساتھ قیمتی جائیدادیں بھی مل رہی ہیں، تو عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان پراپرٹیز کی الگ سے مارکیٹ ویلیو کیا ہے، ان کا تخمینہ کس ادارے نے لگایا اور کیا یہ قیمت بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے؟
پی آئی اے صرف ایک تجارتی کمپنی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے، جس نے کبھی مشرقِ وسطیٰ کی کئی کامیاب ایئرلائنز کے قیام میں تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔ اب جب کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے، تو قوم کو اس کے ہر معاہدے کی تفصیلات جاننے کا پورا حق حاصل ہے۔
اس پورے معاملے میں پاکستان اسٹیل ملز کا کیس ایک ایسے سبق کی مانند ہے جسے نظر انداز کر دیا گیا۔ اسٹیل ملز بھی کبھی ملک کا ایک اہم اور منافع بخش صنعتی ادارہ تھا جو بعد میں بدانتظامی کے باعث بند ہو گیا۔ جب اس کی نجکاری کی کوشش کی گئی تو ناقدین نے اس کی ہزاروں ایکڑ قیمتی زمین اور انفراسٹرکچر کی ویلیوایشن پر اعتراضات اٹھائے
بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجکاری کے عمل میں شفافیت اور درست طریقہ کار کی کمی کے باعث اس پورے سودے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ یہ کیس واضح کرتا ہے کہ اگر پی آئی اے سے منسلک پراپرٹیز کی مالیت اور نجکاری کے طریقہ کار کو شفاف نہ رکھا گیا، تو مستقبل میں یہ معاملہ بھی عدالتی سطح پر چیلنج ہو کر کالعدم ہو سکتا ہے
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اداروں کی فروخت سے نہیں بلکہ حقائق چھپانے سے نقصان اٹھاتی ہیں، کیونکہ قومی اثاثے کسی بھی حکومت کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہوتے ہیں۔
تعارف: عارف روہیلہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی پہچان صنعتی تعلقات، لیبر قوانین کی پاسداری اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی انتھک اور اصولی جدوجہد ہے
