اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
پاکستان میں مزدور مزاحمتی تحریک کیوں نہیں بن سکی؟
آدم عباس
———
پاکستان میں غربت بے روزگاری معاشی عدم مساوات، سیاسی بے اختیاری اور سماجی محرومی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بظاہر ایسے حالات کسی بڑی عوامی مزدور مزاحمتی تحریک کو جنم دے سکتے تھے
مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی بے چینی اب تک ایک منظم عوامی لہر کی صورت اختیار نہیں کر سکی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟
صرف جبر کی موجودگی مزاحمت پیدا نہیں کرتی مزاحمت اُس وقت جنم لیتی ہے جب لوگ اپنے انفرادی مسائل کو ایک مشترک اجتماعی تجربے کے طور پر پہچاننے لگتے ہیں
پاکستان میں اگرچہ مختلف طبقات شدید مشکلات کا شکار ہیں لیکن ان کے مسائل اکثر ذات، برادری، مذہب، زبان اور علاقائی شناختوں کے اندر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ یہی تقسیم مشترک محرومی کو مشترک سیاسی شعور میں تبدیل ہونے سے روک دیتی ہے
ایک کسان ایک مزدور اپنی غربت کو ذاتی بدقسمتی سمجھتا ہے، مزدور کم اجرت کو اپنے مالک کا ظلم تصور کرتا ہے، طالب علم تعلیم کے بحران کو صرف اپنی پریشانی جانتا ہے اور عورت صنفی جبر کو الگ مسئلہ سمجھتی ہے
مگر جب یہ احساس پیدا ہو کہ یہ تمام مسائل دراصل ایک ہی غیر منصفانہ سماجی و معاشی ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہیں، تب اجتماعی شعور جنم لیتا ہے۔
فرانز فینن کے مطابق محکوم طبقہ صرف ظلم سہنے سے بیدار نہیں ہوتا بلکہ اس وقت بیدار ہوتا ہے جب وہ یہ سمجھنے لگے کہ اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ایک وسیع طاقتور نظام کا حصہ ہے۔ یہی شعور مزاحمت کی بنیاد بنتا ہے۔ پاکستان میں یہی ادراک مسلسل کمزور کیا جاتا رہا ہے
یہاں طاقت کے مراکز صرف ریاستی اختیار کے ذریعے نہیں بلکہ ثقافتی اور سماجی ذرائع سے بھی اپنا اثر قائم رکھتے ہیں۔ جاگیردارانہ تعلقات، مذہبی تعبیرات، برادری نظام اور سرپرستی کی سیاست محروم طبقات کو اجتماعی جدوجہد کے بجائے انفرادی بقا کی طرف دھکیلتے ہیں
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غصہ تو پیدا ہوتا ہے، مگر وہ منظم تحریک میں تبدیل ہونے کے بجائے منتشر ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو عوامی توانائی پیدا ہوتی ہے، وہ جلد رسمی سیاست میں جذب ہو جاتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، صحت و تعلیم کی بدحالی اور صنعتی زوال جیسے مسائل عوامی بے چینی کو جنم دیتے ہیں
مگر جیسے ہی یہ بے چینی شدت اختیار کرنے لگتی ہے، سیاسی جماعتیں اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
یوں عوامی غصہ ایک خود مختار سماجی تحریک بننے کے بجائے جماعتی سیاست کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس عمل میں عوامی بیداری اپنی آزاد سمت کھو دیتی ہے اور بالآخر وہی اشرافیہ اس توانائی کو اپنے حق میں استعمال کرنے لگتی ہے جس کے خلاف غصہ پیدا ہوا تھا۔
اس صورتحال کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والا جبر صرف غصہ پیدا نہیں کرتا بلکہ مایوسی اور بے بسی کو بھی جنم دیتا ہے۔
جب لوگ مسلسل ناکام احتجاج، ٹوٹے وعدے اور ادھوری تبدیلیاں دیکھتے ہیں تو ان کے اندر یہ احساس مضبوط ہونے لگتا ہے کہ شاید کوئی حقیقی تبدیلی ممکن ہی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مسئلہ صرف جبر کی موجودگی کا نہیں بلکہ اس اجتماعی شعور کی عدم موجودگی کا ہے جو مختلف محروم طبقات کو ایک مشترک جدوجہد میں جوڑ سکے۔
اس کے ساتھ ایک اور بنیادی سوال بھی اہم ہے: اگر موجودہ نظام بدل جائے تو اس کی جگہ کیا آئے گا؟ صرف غصہ یا مخالفت کسی انقلاب کو کامیاب نہیں بناتی بلکہ ایک واضح متبادل تصور ہی کسی تحریک کو سمت دیتا ہے۔
اگر ایک کسان جاگیرداری کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زمین کی تقسیم کیسے ہوگی؟ فیصلے کون کرے گا؟ اگر مزدور استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ نئے معاشی ڈھانچے میں اختیار کس کے پاس ہوگا۔
جب تک محروم طبقات کے سامنے ایک واضح سماجی اور سیاسی متبادل موجود نہیں ہوگا، تب تک مزاحمت وقتی ردعمل تو پیدا کرے گی مگر وہ قومی سطح کی منظم تبدیلی میں ڈھل نہیں سکے گی۔
تعارف : آدم عباس ممتاز دانشور، مصنف، مترجم اور ترقی پسند نظریاتی استاد ہیں وہ طویل عرصے سے پاکستان میں مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق، اور ان میں اجتماعی سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے فکری سطح پر سرگرم ہیں پاکستان میں محنت کشوں کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرنے والے چند گنے چنے فکری رہنماؤں میں سے ہیں
