سیکیورٹی گارڈز سیسی، ای او بی آئی سے محروم کیوں ؟
قاضی تحسین احمد ہاشمی
————————
اس وقت ملک میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والے سیکیورٹی گارڈز جس انسانیت سوز صورتحال سے گزر رہے ہیں وہ لمحہ فکریہ ہے
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کمپنیاں کلائنٹ سے معاہدہ کرتے وقت 37 ہزار روپے کے علاوہ اپنے سروسز چارجز بھی وصول کرتی ہیں، جس سے ایک گارڈ کی لاگت 50 سے 60 ہزار بنتی ہے، مگر گارڈ کے حصے میں صرف آدھی رقم آتی ہے۔
ان سیکیورٹی گارڈز کی زندگی کسی قیدی سے کم نہیں بینکوں کی مینجمنٹ اپنے تحفظ کے نام پر ڈیوٹی پر موجود گارڈ کو رات بھر بلڈنگ کے اندر تالے میں بند کر دیتی ہے۔
خدانخواستہ رات میں کوئی طبی ہنگامی صورتحال پیش آ جائے تو وہ شخص اندر ہی دم توڑ دے گا کیونکہ اسے باہر نکلنے کی اجازت ہوتی ہے نہ کوئی پرسانِ حال
روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، علاج اور روزگار کا حصول ہر محنت کش کا وہ بنیادی حق ہے جس کی ضمانت ریاست دیتی ہے
لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں قانون بنانے والے بظاہر تو محنت کشوں کے لیے بڑے پُرکشش قوانین بناتے ہیں، مگر ان میں ایسی قانونی موشگافیاں اور پیچیدگیاں ڈال دی جاتی ہیں جو وقت آنے پر مزدور کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہیں
ان قوانین کا مقصد مزدور کو تحفظ دینا نہیں بلکہ سرمایہ دار کو بچ نکلنے کا راستہ فراہم کرنا ہوتا ہے حکومتِ پاکستان نے مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 37,000 روپے مقرر کر رکھی ہے،
لیکن ایک سروے کے مطابق نجی کمپنیاں ان گارڈز کو محض 25 سے 30 ہزار روپے تھما دیتی ہیں
ویران جگہوں پر تعینات گارڈز کے لیے باتھ روم یا کھانے پینے جیسی بنیادی انسانی ضرورت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔
اگر کوئی گارڈ انسانی مجبوری کے تحت چند منٹ کے لیے اوجھل ہو جائے تو کمپنی کا سپروائزر غیر حاضری کی رپورٹ درج کر کے اس کی قلیل تنخواہ سے بھاری کٹوتی کر لیتا ہے
ایک اور بڑا ظلم یونیفارم اور ڈسپلن کے نام پر کیا جاتا ہے۔ شیو نہ ہونے بیلٹ نہ لگانے یا پسٹل کی پوزیشن درست نہ ہونے جیسے بہانوں سے ان کی تنخواہیں کاٹ لی جاتی ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور ہسپتالوں جیسے اچھے پوائنٹس پر ڈیوٹی لگوانے کے لیے ان گارڈز کو کمپنی کے عملے کو رشوت دینا پڑتی ہے
گارڈز کا کہنا ہے کہ اگر ہم سپروائزر کو پیسے نہ دیں تو سزا کے طور پر ہمیں مزید سخت اور خطرناک مقامات پر بھیج دیا جاتا ہے ان نجی سیکیورٹی گارڈز کی اکثریت سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
اگر ڈیوٹی کے دوران کوئی حادثہ پیش آ جائے یا گارڈ جاں بحق ہو جائے، تو کمپنی اسے ایک ‘استعمال شدہ پرزے’ کی طرح پھینک کر نیا بندہ بھرتی کر لیتی ہے، جبکہ اس کے خاندان کے لیے کوئی مالی تحفظ موجود نہیں ہوتا۔
اربابِ اختیار سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ خدارا ان سیکیورٹی گارڈز کے مسائل پر توجہ دیں۔ ان کے لیے بھی دیگر فیکٹریوں کی طرح سوشل سیکیورٹی، میڈیکل کارڈ اور ای او بی آئی کی سہولیات لازمی قرار دی جائیں
یہ مراعات کمپنی نے اپنی جیب سے نہیں دینی ہوتیں بلکہ یہ ان کا قانونی حق ہے۔ جب ایک سیکیورٹی گارڈ کو تحفظ اور عزت ملے گی،
تو وہ اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی حفاظت مزید جانفشانی سے کرے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
