یومِ مئی کے ادھورے خواب
عبدالستار نیازی
————–
ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں محنت کشوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے. یہ دن محض ایک سرکاری چھٹی یا رسمی تقاریب کا نام نہیں ہے بلکہ یہ شکاگو کے ان جاں باز مزدوروں کی عظیم قربانیوں کی یادگار ہے جنہوں نے آٹھ گھنٹے اوقاتِ کار اور انسانی وقار کے لیے اپنا لہو بہایا
لیکن ایک صدی گزرنے کے باوجود جب ہم پاکستان کے صنعتی ڈھانچے اور مزدور کی حالتِ زار پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ سوال ہمیشہ سر اٹھاتا ہے
ان لوگوں کے خلاف کون سا دن منایا جائے گا جو مزدور کے خون پسینے پر عیش کرتے ہیں اور اسے انسان کے بجائے کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ یہاں روز مزدور ہی پس رہا ہے. سوشل سیکیورٹی، ورکرز ویلفیئر بورڈ اورای او بی آئی جیسے ادارے، جو خالصتاً محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گئے تھے، آج کرپشن اور بیوروکریسی کے گڑھ بن چکے ہیں
ان اداروں کا عملہ مزدوروں کی جمع کرائی گئی رقم سے حاصل ہونے والی تنخواہوں پر اے سی دفاتر، آرام دہ کرسیوں اور سرکاری گاڑیوں کی عیاشی کر رہا ہے. جب ایک مجبور مزدور اپنے حق کے لیے ان دفاتر کا چکر لگاتا ہے تو اسے گھنٹوں باہر دھوپ میں انتظار کروایا جاتا ہے اور اکثر ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے
صاحب میٹنگ میں ہیں کیا ان افسران سے کوئی پوچھنے والا ہے کہ جن مزدوروں کو تم پریشان کر رہے ہو، تمہارے گھروں کا نظام اور تمہاری یہ مراعات انہی کے پسینے کی کمائی سے چل رہی ہیں؟
پاکستانی مزدور آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہے. لاکھوں دہاڑی دار، ہوٹل ورکرز اور کنسٹرکشن سائٹس کے محنت کشوں کے لیے یکم مئی کا دن بھی کسی عام دن کی طرح مشقت سے بھرپور ہوتا ہے
سرمایہ دارانہ اور ظالمانہ ٹھیکیداری نظام نے مزدور کو جکڑ رکھا ہے. موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ کنٹریکٹ اور آؤٹ سورسنگ سسٹم ہے
جس نے مستقل ملازمت، پنشن، اور گریجویٹی جیسے تصورات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے. اس نظام کے تحت مزدور ہر وقت برطرفی کے خوف، ذہنی دباؤ اور معاشی عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے.
مزید براں یونین سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ایک عام معمول بن چکا ہے. جو مزدور اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے برطرفی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ٹریڈ یونینز کا اصل مقصد مالک اور مزدور کے درمیان انصاف کا پل بننا ہے، لیکن اسے ایک خطرہ سمجھ کر دبایا جاتا ہے. نوجوان نسل بھی آج محفوظ روزگار سے محروم ہے؛ نہ جاب سیکیورٹی ہے اور نہ ہی عالمی لیبر قوانین کے مطابق اوقاتِ کار
یومِ مزدور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ متحد مزدور ہی مضبوط مزدور ہے منتشر محنت کش کا استحصال آسان ہوتا ہے، مگر جب مزدور منظم ہو جائے تو وہ اپنا حق چھین کر رہتا ہے آج وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ٹریڈ یونین سازی کی راہ میں حائل غیر قانونی رکاوٹیں ختم کی جائیں استحصال کا ذریعہ بننے والے ٹھیکیداری نظام کا فی الفور خاتمہ کیا جائے مزدوروں کے اداروں سیسی، ای او بی آئی سے کرپشن کا خاتمہ کر کے ان کی رقم کو صرف محنت کشوں کی فلاح پر خرچ کیا جائے جب تک مزدور کو معاشرے میں عزت، تحفظ اور اس کا جائز حق نہیں ملے گا، اس وقت تک ملک کی حقیقی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا
