تقسیم در تقسیم کے دور میں مزدور اتحاد کی ضرورت
فیصل علی بلوچ
—————
یکم مئی کا سورج ہر سال دنیا بھر میں اس عہد کے ساتھ طلوع ہوتا ہے کہ معیشت کا پہیہ گھمانے والے ہاتھوں کو ان کا جائز مقام ملے گا۔ یہ دن شکاگو کے ان محنت کشوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے لہو سے اوقاتِ کار اور انسانی وقار کی تاریخ لکھی
لیکن کیا پاکستان میں اس دن کی گونج ان محنت کشوں تک پہنچ پاتی ہے جو آج بھی غربت، استحصال اور امتیازی سلوک کی چکی میں پس رہے ہیں؟
مزدور کے درمیان تقسیم کی دیوار ہمارے ہاں ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے محنت کشوں کو مختلف خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے
فیکٹری کی چاردیواری میں کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل ان محنت کشوں سے بالکل مختلف ہیں جو آؤٹ لیٹس یا سیلز کے شعبے سے وابستہ ہیں
المیہ یہ ہے کہ جب سی بی اے انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرتی ہے، تو فیکٹری کے مزدوروں کی عددی اکثریت کے باعث ان کے مطالبات تو تسلیم کر لیے جاتے ہیں
مگر سیلز مین اور دیگر شعبوں کے محنت کشوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ مزدور سے مزدور کی دوری صنعتی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے
پاکٹ یونینز اور یک طرفہ قانون سازی حکومتی سطح پر لیبر قوانین کی تشکیل کے وقت اکثر پاکٹ مزدور یونینز کے ان لیڈران کو نمائندگی دی جاتی ہے جو مزدور کے بجائے مخصوص مفادات کے نگہبان ہوتے ہیں
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوانین تو بنتے ہیں مگر وہ محنت کش کے زمینی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جب تک حقیقی نمائندگی نہیں ہوگی، این آئی آر سی ہو یا صوبائی وزارتِ محنت، مزدور کو انصاف کی فراہمی ایک خواب ہی رہے گی
اس یکم مئی کو ہمیں ایک نیا رخ اختیار کرنا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آزمائے ہوئے اور مفاد پرست لیڈران کو ایک طرف کر کے محنت کش خود ایک جامع لیبر پالیسی تشکیل دیں
یہ پالیسی کسی تصادم کے بجائے مشاورتی عمل پر مبنی ہونی چاہیے، جس میں چیمبرز آف کامرس اور آجروں کی ایسوسی ایشنز کو بھی شامل کیا جائے
ہمیں آجروں کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کی صنعتیں اور فیکٹریاں محنت کشوں کی وجہ سے چلتی ہیں، اس لیے محنت کش کی خوشحالی ہی صنعت کی بقا ہے
پاکستان کی خوشحالی کا راستہ محنت کشوں کی خوشحالی سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہمیں ایک ایسی تحریک کی ضرورت ہے جہاں تمام یونینز اور فیڈریشنز ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک ہو جائیں
ہمارا مقصد صرف اجرتوں میں اضافہ نہیں، بلکہ یہ عہد ہونا چاہیے کہ وطنِ عزیز کا ہر محنت کش معاشی طور پر مستحکم ہو، پینشنرز اور بیواؤں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہو، محنت کش کا ہر بچہ اسکول جائے، نہ کہ کسی ورکشاپ پر مشقت کرے
ملی لیبر فیڈریشن اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہمارے دروازے تمام محنت کشوں کے لیے کھلے ہیں۔ ہم ایک ایسے متحد پلیٹ فارم کے لیے کوشاں ہیں جہاں کسان، مزدور، سیلز مین اور ہنرمند طبقہ ایک آواز بن کر ابھرے
آئیے، اس یکم مئی کو عہد کریں کہ ہم متحد ہو کر ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھیں گے جہاں محنت کی قدر ہوگی اور استحصال کا خاتمہ ہوگا۔
تعارف: فیصل علی بلوچ ملی لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر ہیں اور طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول میں رہے ہیں ، اپنی تحریروں اور کالموں کے ذریعے وہ نہ صرف مزدوروں کے مسائل کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں ان کا کالم سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز سمجھا جاتا ہے
