May 28, 2026

لیبر یونین میں جنرل سیکریٹری کا کردار

 لیبر یونین میں جنرل سیکریٹری کا کردار

محمد اسلم عباسی

—————–

پاکستان کی آئینی تاریخ میں 18ویں ترمیم ایک ایسا سنگ میل ہے جس نے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کا رخ مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے

جب لیبر قوانین کی ذمہ داری وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئی تو سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جس نے سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ  کے ذریعے ایک نیا قانونی ڈھانچہ متعارف کرایا لیکن کیا قوانین کی تبدیلی کے ساتھ ہماری یونین قیادت کا انداز بھی بدلا ہے؟

آج کے صنعتی دور میں یونین سازی صرف نعرے بازی یا احتجاج کا نام نہیں رہی اب ایک مثالی یونین لیڈر اور خاص طور پر ’جنرل سیکریٹری‘ کا کردار ایک تزویراتی  دانشور کا بن چکا ہے

جذباتی سیاست سے تکنیکی قیادت تک ماضی میں یونین قیادت کا معیار شعلہ بیانی کو سمجھا جاتا تھا، لیکن 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں قیادت کا ماڈل تکنیکی ہو چکا ہے آج کے لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف جذباتی نہ ہو بلکہ اسے سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2013، اسٹینڈنگ آرڈرز ایکٹ 2015 اور آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2017 پر مکمل عبور حاصل ہو

اب مینجمنٹ کے سامنے میز پر بیٹھ کر بات کرنے کے لیے قانون کی زبان سمجھنا ناگزیر ہے۔ اگر ایک لیڈر گریجویٹ ہے یا قانون اور ہیومن ریسورس کی سمجھ رکھتا ہے، تو وہ مزدوروں کا مقدمہ زیادہ مضبوطی سے لڑ سکتا ہے۔

جنرل سیکریٹری یونین کا انتظامی ستون ہے یونین کے ڈھانچے میں جنرل سیکریٹری درحقیقت وہ پل ہے جو مزدوروں اور آجر کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف مطالبات کی فہرست پیش کرنا نہیں، بلکہ ادارے کے انتظامی اور قانونی معاملات کو چلانا بھی ہے

جدید دور کے جنرل سیکریٹری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اب وفاقی ادارے کے بجائے صوبائی لیبر کورٹس اور رجسٹرار سندھ کے پاس کیا اختیارات ہیں

اسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس کی یونین کل ملازمین کے 33 فیصد کا اعتماد حاصل کر کے قانونی طور پر کلیکٹو بارگیننگ ایجنٹ بننے کی اہل ہے اس کے علاوہ کے تحت خواتین اور نوجوانوں کی نمائندگی کو یقینی بنانا بھی اس کی بڑی ذمہ داری ہے۔

صنعتی امن اور سماجی مکالمے کے لیئے ایک کامیاب جنرل سیکریٹری وہ ہے جو مینجمنٹ کو یہ باور کروا سکے کہ محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ دراصل ادارے کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کا ضامن ہے

وہ نعروں کے بجائے کمپنی کی مالی رپورٹ، مہنگائی کے تناسب اور قانونی شقوں کا حوالہ دے کر بات کرتا ہے۔ صنعتی امن کا قیام ہڑتالوں سے نہیں بلکہ سوشل ڈائیلاگ سے ممکن ہے، جہاں دونوں فریقین ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں

شفافیت اور کارکنوں کی تعلیم کے لیئے لیڈر کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے یونین کے فنڈز کا شفاف استعمال اور موروثی سیاست کے بجائے باقاعدہ جمہوری انتخابات کا انعقاد ایک مثالی قیادت کی پہچان ہے

ساتھ ہی جنرل سیکریٹری کا ایک اہم کام کارکنوں کو ان کے فرائض اور حفاظتی قوانین سے آگاہ کرنا بھی ہے، تاکہ کام کی جگہ پر حادثات کم ہوں اور مزدور کی جان محفوظ رہے

آج سندھ میں یونین قیادت کو اپنے روایتی انداز سے نکل کر جدید قانونی تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ ایک مثالی جنرل سیکریٹری وہ ہے جو قانون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر منطقی بات کر سکے اور جس کی جڑیں کارکنوں کے غیر متزلزل اعتماد میں پیوست ہوں

وقت آ گیا ہے کہ ہم مزدور تحریک کو جذباتی نعروں سے نکال کر علمی اور قانونی بنیادوں پر استوار کریں، کیونکہ یہی صنعتی انصاف کے قیام کا واحد راستہ ہے

تعارف : محمد اسلم عباسی مہران ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری ہیں وہ اپنی تحاریر میں نتظامی گتھی کو سلجھاتے ہوئے کئی ایسے عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں کن سے مزدروں کے مسائل کے حل کا راستہ کھلتا ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp