May 31, 2026

پاکستان میں یومِ مئی اور مزدوروں کا حال

 پاکستان میں یومِ مئی اور مزدوروں کا حال

عمران علی

———-

ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں محنت کشوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک چھٹی نہیں بلکہ شکاگو کے ان جاں باز مزدوروں کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کی یادگار ہے

جنہوں نے آٹھ گھنٹے اوقاتِ کار، مناسب اجرت اور انسانی حقوق کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان میں بھی اس دن کو سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے، لیکن کیا محض تعطیل اور چند رسمی تقریبات مزدور کے مسائل کا حل ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود پاکستانی مزدور آج بھی انہی بنیادی حقوق کے لیے دستک دے رہا ہے جن کا مطالبہ شکاگو کی سڑکوں پر کیا گیا تھا۔

پاکستان میں یکم مئی کی چھٹی کا اطلاق صرف سرکاری دفاتر یا چند بڑے صنعتی اداروں تک محدود رہتا ہے۔ لاکھوں دہاڑی دار مزدور، ہوٹل ورکرز، کنسٹرکشن سائٹس پر کام کرنے والے محنت کش اور چھوٹے کارخانوں کے ملازمین کے لیے یہ دن بھی کسی دوسرے دن کی طرح مشقت سے بھرپور ہوتا ہے

سرمایہ دارانہ نظام اور ٹھیکیداری نظام کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ قانون کی بالادستی وہاں تک نہیں پہنچ پاتی۔ انتظامیہ اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کی خاموشی اس استحصال کو مزید شہ دیتی ہے۔

پاکستان کے مزدور طبقے کو اس وقت سب سے بڑی دیوار ‘یونین سازی’ میں رکاوٹوں کی صورت میں درپیش ہے۔ بین الاقوامی ادارہ محنت  کے کنونشنز اور پاکستان کا آئین ہر مزدور کو تنظیم سازی اور اجتماعی سودے بازی کا حق دیتا ہے

مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آج کے دور میں اگر کوئی مزدور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی خاطر یونین بنانے کی بات کرتا ہے، تو اسے فوری طور پر برطرفی، پولیس گردی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹریڈ یونینز کا مقصد کسی ادارے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ مزدور اور مالکان کے درمیان ایک ایسا پل بننا ہوتا ہے جو باوقار طریقے سے مسائل حل کر سکے۔

 مگر یہاں یونین سازی کو ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مزدور اپنے حق کے لیے انفرادی طور پر لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے اور آخر کار سسٹم کے سامنے ہار مان لیتا ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ کنٹریکٹ سسٹم اور آؤٹ سورسنگ ہے۔ مستقل ملازمتیں قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں۔ فیکٹریوں اور اداروں نے اپنے ملازمین کو تیسرے فریق  کے حوالے کر دیا ہے

جس کی وجہ سے مزدور پینشن، گریجویٹی اور سوشل سیکیورٹی جیسی سہولیات سے محروم ہو گیا ہے۔ بے یقینی کی اس فضا نے مزدور کو ذہنی دباؤ اور معاشی عدم تحفظ میں مبتلا کر دیا ہے

پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر ان کے لیے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان معمولی تنخواہوں پر نجی اداروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں جہاں نہ تو اوقاتِ کار کا تعین ہے اور نہ ہی جاب سیکیورٹی۔ اگر نوجوان نسل کو ہنر مندی، محفوظ روزگار اور تنظیم سازی کے مواقع نہ دیے گئے تو یہ انسانی وسائل کی تباہی کے مترادف ہوگا

یکم مئی ہمیں پیغام دیتا ہے کہ مزدور متحد ہوگا تو مضبوط ہوگا منتشر مزدور کا ہر کوئی استحصال کرتا ہے، لیکن منظم مزدور اپنے حقوق چھین کر لینے کی طاقت رکھتا ہے

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ٹریڈ یونینز کے قیام میں حائل رکاوٹیں دور کرے، ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کرے اور آئی ایل او کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرائے

جب تک مزدور کو معیشت کا محض ایک پرزہ سمجھا جائے گا، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب قوم کی بنیاد سمجھے جانے والے محنت کش کو عزت، تحفظ اور اس کا جائز حق ملے گا۔

تعارف : عمران علی پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری ہیں وہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول کے رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور صنعتی شعبے سے وابستہ محنت کشوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مزدوروں کی فلاحی اسکیموں میں موجود نظامی خرابیوں اور انتظامی بحران پر آواز بلند رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp