ریلوے کا مزدور خاموش جنازے اور بے قدر قربانیاں
شیخ انور
——
جب ایک ریلوے ملازم دورانِ ڈیوٹی جان دے دیتا ہے، تو گھر میں ایک ایسی خاموشی اترتی ہے جو کسی بھی چیخ سے زیادہ دردناک ہوتی ہے۔ بچے دروازے کی طرف دیکھتے رہ جاتے ہیں اور والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔
لیکن اس المیے پر سب سے بڑا سوالیہ نشان وہ ادارہ ہے جس کے لیے اس مزدور نے اپنا خون بہایا۔ پاکستان ریلوے ایک قومی اور دفاعی ادارہ ہے، مگر کیا وجہ ہے کہ اس کے شہداء کو وہ عزت نہیں ملتی جو پولیس یا دیگر فورسز کے شہداء کو دی جاتی ہے
پاکستانی فورسز اور پولیس میں جب کوئی جوان شہید ہوتا ہے، تو پورا نظام حرکت میں آجاتا ہے۔ اعلیٰ افسران جنازے میں شریک ہوتے ہیں، سلامی دی جاتی ہے اور پسماندگان کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ تنہا نہیں ہیں
یہ عمل ادارے کی ساکھ مضبوط بناتا ہے۔ لیکن جب ریلوے کا گینگ مین جو تپتی دھوپ اور طوفانی راتوں میں ٹریک کی حفاظت کرتا ہے کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو اس کے جنازے پر کوئی اعلیٰ افسر نظر نہیں آتا
چند غریب کندھے اور نم آنکھیں اس کی میت اٹھاتی ہیں اور ایک خاموش سوال فضا میں گونجتا ہے: “کیا ہمارا خون اتنا سستا ہے؟
شہید کے ورثاء کو اکثر یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ مرنے والا عارضی ریل کاپ یا کنٹریکٹ ملازم تھا۔ سوال یہ ہے کہ ان ملازمین کو مستقل کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟
کیا کسی کی جان کی قیمت اس کے ملازمت کے سٹیٹس سے طے ہوگی؟ یہ رویہ صرف غفلت نہیں بلکہ اس محنت کش کے خون کی توہین ہے جس نے ادارے کے پہیے کو رواں رکھنے کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی۔
ہم وزیراعظم پاکستان اور ریلوے حکام سے اپیل نہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریلوے کے ہر شہید ملازم کے جنازے میں اعلیٰ افسران کی شرکت کو لازمی قرار دینے کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے،
شہداء کے اہل خانہ کو صرف مالی امداد نہیں بلکہ وہ عزت دی جائے جو ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکے،ریلوے کلبوں اور مارکیوں کے فنڈز ان غریب ملازمین کی بیواؤں اور یتیموں کی بہبود پر خرچ کیے جائیں، کنٹریکٹ اور اِنویلڈ ملازمین کو فوری طور پر مستقل کیا جائے تاکہ ان کے خاندانوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔
عزت پیسے سے بڑی چیز ہے اور ایک شہید کا خاندان صرف انصاف اور پہچان کا طلبگار ہے۔ اگر ہم آج بھی اپنے محسنوں کو پہچاننے میں ناکام رہے
تو یہ خاموش جنازے کل ایک بڑے سماجی احتجاج کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ تحریر ایک فریاد ہے ان حکمرانوں کے لیے جو بڑے دفاتر میں بیٹھ کر فیصلے تو کرتے ہیں
مگر ٹریک پر مرنے والے مزدور کا درد محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ اللہ ہمیں حق کہنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق دے۔ آمین
