پروفیسر محمد شفیع ملک سات دہائیوں پر محیط مزدور تحریک کا فکری مینار( چوتھی قسط )
اسرار ایوبی
———–
پروفیسر محمد شفیع ملک کی زندگی کا سفر حیدرآباد سے کراچی منتقلی کے بعد ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا۔ جنوری 1970ء میں مستقل طور پر کراچی منتقل ہونے والے پروفیسر صاحب نے اس شہر کو صرف اپنا مسکن نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی نظریاتی جدوجہد کا مرکز بھی بنا لیا۔
نارتھ ناظم آباد میں اپنے ذاتی مکان کی تعمیر کے لیے انہوں نے لطیف آباد کا گھر اور اپنی وراثتی زرعی زمین تک فروخت کر دی، جو ان کے اس شہر سے جڑ جانے کے پختہ ارادے کی عکاسی تھی۔
جماعت اسلامی نے پروفیسر صاحب کے وسیع تجربے اور مزدوروں میں مقبولیت کی بنیاد پر انہیں تین مرتبہ قومی اسمبلی کے لیے امیدوار نامزد کیا۔ اگرچہ 1959ء اور 1979ء کے انتخابات مارشل لاء کی نذر ہو گئے، لیکن 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں انہوں نے اپنی عوامی قوت کا لوہا منوایا اور دوسرے نمبر پر رہے
ان کی علمی اور ٹریڈ یونین خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صدر جنرل ضیاء الحق نے انہیں 1981ء میں مجلسِ شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ صدر مملکت انہیں وفاقی وزیرِ محنت کا قلمدان سونپنا چاہتے تھے، مگر پروفیسر صاحب نے اس منصب کے بجائے مزدوروں کی براہِ راست خدمت کو ترجیح دیتے ہوئے معذرت کر لی۔
وفاقی حکومت نے ان کی مہارت کو دیکھتے ہوئے انہیں ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی کا رکن مقرر کیا اسی طرح حکومتِ سندھ نے انہیں کے ڈی اے کی گورننگ باڈی میں شامل کیا
ان عہدوں پر رہتے ہوئے انہوں نے پالیسی سازی کی سطح پر محنت کشوں کے حقوق کی جنگ لڑی اور کراچی کے شہریوں کی فلاح کے لیے نمایاں کام کیے۔
پروفیسر محمد شفیع ملک کا سب سے بڑا کارنامہ 1983ء میں پاکستان ورکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹکا قیام ہے۔ ان کا نظریہ تھا کہ مزدور تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک محنت کش اور ان کے رہنما صنعتی قوانین اور یونین ازم کی تعلیم سے آراستہ نہ ہوں۔ گلشن اقبال میں قائم یہ کمپلیکس آج مزدوروں کے لیے ایک منفرد تعلیمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے
یہاں موجود ریفرنس لائبریری پروفیسر صاحب کے علمی ذوق کا آئینہ دار ہے، جہاں قرآن و حدیث اور تاریخ سے لے کر عالمی ادارہ محنت کی نایاب رپورٹس تک موجود ہیں۔ اس ادارے کا عبدالمجید ضیاء سیمینار ہال اور پاشا احمد گل شہید بورڈ روم آج بھی علمی و ادبی محافل اور ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں سے آباد ہیں
پروفیسر محمد شفیع ملک کی زندگی کی یہ علمی میراث ثابت کرتی ہے کہ حقیقی رہنمائی صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم اور شعور کی آبیاری سے ممکن ہے۔
تعارف: اسرار ایوبی کی تحریر کردہ اس سوانحی سیریز کی چوتھی قسط میں پروفیسر محمد شفیع ملک کی زندگی کے ان ادوار کا احاطہ کیا گیا ہے جب انہوں نے کراچی کو اپنا مسکن بنایا اور ملک کی سیاسی و مزدور تاریخ میں ناقابلِ فراموش نقوش ثبت کیے۔ یہ تحریر ایک ایسی شخصیت کا خاکہ پیش کرتی ہے جس نے اقتدار کے عہدوں پر خدمتِ خلق کو ترجیح دی اور محنت کشوں کی علمی آبیاری کے لیے اپنی وراثت تک وقف کر دی۔
