May 28, 2026

یومِ مئی کی خاموش چیخ

 یومِ مئی کی خاموش چیخ

عارف روہیلہ

———-

یکم مئی کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو دنیا بھر کے ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات مزدور کی عظمت کے گیت گانے لگتے ہیں سیمینارز ہوتے ہیں، بڑی بڑی تقریریں جھاڑی جاتی ہیں اور مزدور کو معیشت کا پہیہ قرار دے کر اسے کندھوں پر بٹھانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔

لیکن جب شام ڈھلتی ہے اور تقریب کی روشنیاں بجھتی ہیں، تو وہی ’معیشت کا پہیہ‘ اپنی بوسیدہ سائیکل پر بیٹھا یا ٹوٹی ہوئی بس کی چھت پر لٹکا ہوا اپنے اس گھر کی طرف جا رہا ہوتا ہے جہاں صرف اندھیرا اور ادھورے خواب اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں ہے، یہ ان لاکھوں انسانوں کی خاموش چیخ ہے جن کی آواز طاقتور ایوانوں کے بند دروازوں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے۔

کراچی کے صنعتی علاقے کی ایک دھواں اگلتی فیکٹری میں کام کرنے والا سلیم اس چیخ کی ایک زندہ مثال ہے۔ سلیم صبح چھ بجے اس وقت بستر چھوڑ دیتا ہے جب شہر کے صاحبِ ثروت لوگ گہری نیند میں ہوتے ہیں۔

دو بسیں بدل کر کام پر پہنچنا اور پھر مسلسل دس گھنٹے مشینوں کے شور میں خود کو پگھلانا اس کا مقدر ہے۔ شام کو جب وہ گھر لوٹتا ہے، تو اس کے معصوم بچوں کی آنکھوں میں امید کے دیے روشن ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جیب ٹٹولتا ہے،

مگر وہاں سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا۔ وہ سوچتا ہے کہ آدھی تنخواہ تو مکان کے کرائے اور بجلی کے اس بل کی نذر ہو گئی جس کی ریڈنگ اس کے فہم سے باہر ہے۔ وہ محنت تو کرتا ہے، لیکن وہ کہتا ہے، صاحب میری محنت کی رفتار وہی ہے، مگر مہنگائی مجھ سے زیادہ تیز دوڑ رہی ہے۔

یہ کہانی صرف سلیم کی نہیں، یہ کہانی ان لاکھوں محنت کشوں کی ہے جو ہر روز مہنگائی کے ہاتھوں شکست کھاتے ہیں۔ لیکن المیہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔

جب ایک مزدور اپنی پوری زندگی لہو بنا کر کارخانے کی بھٹی میں ڈال دیتا ہے اور ریٹائر ہوتا ہے، تو اس کا سامنا ایک نئی دیوار سے ہوتا ہے

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے سابق ملازم نذیر احمد کی مثال لیں تیس سال تک ملک کے قومی ادارے کی خدمت کرنے والے نذیر احمد آج اپنی ادویات کی دکان پر کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کے ہاتھ کانپ رہے ہوتے ہیں۔

دکاندار دوا کی جو قیمت بتاتا ہے، وہ ان کی چند ہزار روپے کی فکسڈ پنشن سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ وہ خاموشی سے آدھی دوا لیتے ہیں اور آدھی چھوڑ دیتے ہیں۔

وہ زمانہ یاد کرتے ہیں جب علاج مکمل اور مفت ملتا تھا، مگر آج اسٹیٹ لائف انشورنس کے فارم منظوریاں اور لامتناہی انتظار ان کی بیماری سے زیادہ بڑی پریشانی بن چکے ہیں۔

اسی طرح لاہور کے ایک تنگ کمرے میں رہنے والی شازیہ بی بی کی زندگی ایک اور سوالیہ نشان ہے۔ ان کے شوہر بھی اسی ادارے میں تھے، مگر ان کے جانے کے بعد شازیہ بی بی کے لیے زندگی تھم سی گئی ہے۔

گھٹنے جواب دے چکے ہیں، مگر ہسپتال جانے کے لیے نہ ایمبولینس میسر ہے اور نہ کوئی سہارا وہ کہتی ہیں، میں کھڑکی سے باہر سڑک کو دیکھتی ہوں، ہسپتال جانے کا سوچتی ہوں، لیکن پھر اپنی بے بسی دیکھ کر واپس بستر پر لیٹ جاتی ہوں۔

سوال یہ ہے کہ یہ کیسا نظام ہے جہاں انسان کی خدمت کا صلہ اسے بڑھاپے میں بے بسی کی صورت میں ملتا ہے؟ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف ٹیکس جمع کرنا ہے؟

یومِ مئی ہمیں خوابِ غفلت سے جگانے آتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت صرف میٹھی باتوں اور اخباری اشتہارات سے نہیں چلتی۔

مزدور کی عظمت کا اصل اعتراف یہ ہے کہ اس کی پنشن کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے۔ اس کے علاج کے عمل کو اتنا آسان بنایا جائے کہ اسے کسی کی سفارش کی ضرورت نہ رہے۔

بیواؤں کو ایسا سماجی تحفظ دیا جائے کہ وہ اپنے گھر کے دروازے تک آ کر واپس بستر پر نہ جائیں۔

یاد رکھیے وقت کا پہیہ گھومتا ہے۔ آج جو مزدور بے بس ہے، کل وہی بڑھاپا ہماری دہلیز پر بھی دستک دے سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے ان خاموش چیخوں کو نہ سنا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی

یومِ مئی تقاضا کرتا ہے کہ ہم نعروں کی دنیا سے نکل کر عمل کی دنیا میں قدم رکھیں اور اس محنت کش کو وہ حق دیں جو قدرت نے اسے عطا کیا ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں محنت کی قدر نہیں ہوتی، وہ معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتا۔

تعارف :  عارف روہیلہ پاکستان کے سماجی و معاشی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ایک حساس قلم کار ہیں۔ ان کی تحریریں عموماً معاشرے کے دبے ہوئے طبقات، مزدوروں کی جدوجہد اور ریٹائرڈ ملازمین کے دکھوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ زیرِ نظر کالم میں انہوں نے ‘یومِ مئی’ کے روایتی جشن کے بجائے اس کی اصل روح اور مزدور کی زندگی کی تلخ حقیقتوں کو جذباتی مگر فکری انداز میں پیش کیا ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp