June 1, 2026

کیپیسٹی پیمنٹس اور مزدور

 کیپیسٹی پیمنٹس اور مزدور

عارف روہیلہ

——————–

پاکستان میں جب بھی بجلی کا بل کسی محنت کش کے گھر دستک دیتا ہے، تو وہ صرف روشنی کی قیمت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس خاموش بوجھ کی قیمت بھی ہوتی ہے جسے ہم کیپیسٹی پیمنٹس کہتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو حکومتِ پاکستان ان بجلی گھروں کو ادا کرنے کی پابند ہے جن سے ہم بجلی خریدیں یا نہ خریدیں ادائیگی بہرحال ڈالرز میں کرنی ہے

 1994 سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج 2026 میں ایک ایسے خوفناک مالیاتی بحران میں بدل چکا ہے جس کا حل کسی سیاسی حکومت کے پاس نظر نہیں آتا

اس بحران کا آغاز 1990 کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کی پہلی نجی پاور پالیسی سے ہوا۔ اس وقت ملک میں لوڈشیڈنگ کا اندھیرا تھا اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ٹیک اینڈ پےکے بجائے ٹیک اور پے کا ماڈل اپنایا گیا

حبکو، کوٹ ادو اور روش پاور جیسے منصوبے اسی دور کی یادگار ہیں معاہدوں میں ڈالر کی قیمت سے منسلک ادائیگی منافع کی گارنٹی اور درآمدی ایندھن پر انحصار وہ بنیادی غلطیاں تھیں جن کی سزا آج کی نسل بھگت رہی ہے

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اگرچہ توانائی کی صورتحال وقتی طور پر مستحکم رہی، مگر بنیادی ڈھانچے اور معاہدوں کی نوعیت میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔

2008 میں جب آصف علی زرداری برسرِاقتدار آئے، تو ملک ایک بار پھر بدترین لوڈشیڈنگ کی زد میں تھا۔ اس دور میں رینٹل پاور پلانٹس اور نئے منصوبے لائے گئے مگر بدقسمتی سے پرانا ڈالر بیسڈ ماڈل برقرار رہا

اسی دور میں سیاسی و کاروباری حلقوں کے درمیان ایسے گٹھ جوڑ نے جنم لیا جس نے توانائی کے شعبے کو عوامی خدمت کے بجائے کاروباری مفادات کا مرکز بنا دیا

2013 سے 2018 کا دور بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دور تھا پورٹ قاسم، ساہیوال کول اور ایل این جی پلانٹس لگائے گئے بجلی تو سسٹم میں آ گئی مگر اس کے ساتھ ہی کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا

سی پیک کے تحت لگنے والے منصوبوں کی طویل مدتی ضمانتوں نے حکومت کے ہاتھ باندھ دیے آج ہم اتنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جتنی ہمیں ضرورت نہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ اس ‘فالتو صلاحیت’ کی قیمت بھی ہمیں اپنی جیبوں سے ادا کرنی پڑ رہی ہے

سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرِ ثانی کے دعوے ہوئے کچھ مذاکرات بھی ہوئے مگر گردشی قرضہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا گیا اصلاحات کی ہر کوشش سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ان کاروباری گروپس کے سامنے دم توڑ گئی جو خود ان پاور پلانٹس کے شراکت دار تھے

2022 سے 2026 کا شہباز شریف دور معاشی لحاظ سے بدترین ثابت ہوا۔ سالانہ کھربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس نے بجلی کے فی یونٹ قیمت کو آسمان پر پہنچا دیا۔ آج حالت یہ ہے کہ حکومت کے پاس معاہدوں کو توڑنے کی سکت ہے اور نہ ہی انہیں نبھانے کے لیے رقم۔

کیپیسٹی پیمنٹس کا پیسہ صرف غیر ملکی کمپنیوں کو نہیں جاتا بلکہ یہ ایک ایسا پیچیدہ نظام ہے جہاں بجلی پیدا کرنا مقصد نہیں بلکہ پلانٹ کا موجود ہونا ہی منافع کی ضمانت بن چکا ہے

پاکستان کا اصل مسئلہ بجلی کی کمی نہیں، بلکہ وہ مہنگے معاہدے اور مفادات کا بوجھ ہے جو تین دہائیوں سے ہم ڈھو رہے ہیں۔ جب تک ہم ڈالر کے بجائے روپے میں ادائیگی مقامی ایندھن کا استعمال اور بااثر گروپس کے مفادات پر عوامی مفاد کو ترجیح نہیں دیں گے

یومِ مئی ہو یا کوئی اور دن پاکستان کا محنت کش اور سفید پوش طبقہ بجلی کے بلوں کے اس گرداب میں ڈوبتا رہے گا

تعارف: عارف روہیلہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی پہچان صنعتی تعلقات، لیبر قوانین کی پاسداری اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی انتھک اور اصولی جدوجہد ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp