پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
پروفیسر محمد شفیع ملک سات دہائیوں پر محیط مزدور تحریک کا فکری مینار
اسرار ایوبی
———–
( تیسری قسط ) پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریک اور تعلیمی منظر نامے میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے محض احتجاج اور نعرہ بازی کے بجائے فکری انقلاب اور عملی اصلاحات کے ذریعے نظام کو تبدیل کیا۔
پروفیسر محمد شفیع ملک ایک ایسی ہی قد آور شخصیت ہیں جنہوں نے ملک کے صنعتی اور تعلیمی ڈھانچے میں توازن پیدا کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ان کی زندگی کا سفر معاشیات کی تدریس سے شروع ہو کر ملک کی سب سے بڑی مزدور فیڈریشن کی بنیاد رکھنے تک پھیلا ہوا ہے
پروفیسر محمد شفیع ملک کا سب سے بڑا کارنامہ صنعتی تعلقات کا اسلامی ماڈل ہے۔ ایک ایسے دور میں جب آجر اور اجیر کے درمیان تعلقات صرف مقدمہ بازی اور کشمکش تک محدود تھے، انہوں نے ایک انقلابی نظریہ پیش کیا
ان کے ماڈل کی بنیاد اس فلسفے پر ہے کہ صنعتی اداروں میں اول فرائض اور دوم حقوق پر توجہ دی جائے ان کا ماننا ہے کہ جب فریقین اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کرتے ہیں تو حقوق کا تحفظ خود بخود یقینی ہو جاتا ہے
اس نظریے کا عملی اور کامیاب تجربہ انہوں نے کراچی کی معروف جرمن کمپنی سیمنس پاکستان میں کیا۔ اس وقت کمپنی کی انتظامیہ اور مزدور یونین کے درمیان سالہا سال سے جاری قانونی چارہ جوئی اور مقدمات کی بھرمار تھی
پروفیسر صاحب کی مداخلت اور ان کے متعارف کردہ ماڈل کے نتیجے میں یہ تنازعات رفتہ رفتہ ختم ہو کر صفر پر آ گئے
اس غیر معمولی کامیابی نے جرمن انتظامیہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور وہاں کے جرمن ڈائریکٹر نے خود اس عظیم شخصیت سے ملنے کی خواہش ظاہر کی جس نے برسوں کے تنازعات کا حل باہمی مکالمے اور اسلامی اصولوں میں تلاش کیا
پروفیسر محمد شفیع ملک کی خدمات صرف صنعتی میدان تک محدود نہیں۔ انہوں نے 1960 سے 1965 تک ٹنڈو الہ یار کے ایس ایم آرٹس کالج میں پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دیں لیکن ان کا اصل تعلیمی مشن حیدرآباد میں شروع ہوا۔
مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لیے انہوں نے غزالی ڈگری کالج کی بنیاد رکھی، جس کا افتتاح 1965 میں نامور ماہرِ قانون اے کے بروہی نے کیا
یہ ادارہ آج گورنمنٹ غزالی ڈگری کالج اینڈ پوسٹ گریجویٹ سینٹر بن چکا ہے، جو ان کے وژن کی زندہ جاوید مثال ہے اسی طرح انہوں نے لطیف آباد میں ‘علامہ اقبال ہائی اسکول’ قائم کیا اور دور دراز سے آنے والے طلبہ کے لیے رہائشی ہاسٹل بھی بنوایا
نومبر 1969 کا سال پاکستان کی مزدور تحریک میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا جب پروفیسر محمد شفیع ملک نے نیشنل لیبر فیڈریشن کی داغ بیل ڈالی اس وقت ٹریڈ یونین تحریک دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی کشمکش میں گھری ہوئی تھی
پروفیسر صاحب نے لاکھوں محنت کشوں کو ایک اسلامی نظریاتی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ 9 نومبر 1969 کو کراچی میں ہونے والے پہلے اجلاس میں وہ متفقہ طور پر اس فیڈریشن کے پہلے صدر منتخب ہوئے
ان کی قیادت میں این ایل ایف نے محنت کشوں کے حقوق کے لیے بے لوث جدوجہد کی اور آج یہ تنظیم نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی جانب سے پاکستان کی سب سے بڑی مزدور فیڈریشن قرار دی جا چکی ہے
پروفیسر صاحب اپنی شخصیت کی تعمیر میں اپنے اساتذہ، ہسپانوی نژاد پروفیسر ایڈریانا ڈوآرٹ اور علی گڑھ کے فارغ التحصیل پروفیسر جلیل الدین احمد خان کے بے حد معترف ہیں۔
ان اساتذہ کی شفقت اور علمی جلال نے انہیں وہ فکری گہرائی عطا کی جس نے آگے چل کر پاکستان کے صنعتی اور تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلیاں پیدا کیں
آج پروفیسر محمد شفیع ملک کی کاوشیں ایک شجرِ سایہ دار کی صورت میں موجود ہیں، جو نہ صرف محنت کشوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے علم کی روشنی بھی پھیلا رہی ہیں
ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر خلوصِ نیت اور درست نظریہ موجود ہو، تو پیچیدہ ترین مسائل کا حل بھی ممکن ہے
تعارف : اسرار ایوبی ای او بی آئی کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں جنہیں آب مزدور دنیا ایک کہنہ مشق کالم نگار کی حیثیت سے جانتی ہے، جو طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور سماجی و سیاسی موضوعات پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے پروفیسر محمد شفیع ملک کی زیرِ نگرانی ماہنامہ الکاسب میں اہم خدمات انجام دیں اور مزدور تحریک کو قریب سے دیکھا ہے
