پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
محنت کش طبقہ محروم کیوں؟
فیصل علی بلوچ
—————————
کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی اس کا محنت کش طبقہ ہوتا ہے، جو کھیتوں، کارخانوں اور مارکیٹوں میں اپنی محنت سے ریاست کی معیشت کو استحکام بخشتا ہے۔
قدرت نے مزدور کو وہ ہنر دیا ہے جو ایک عام دھات کو کارآمد شے میں بدل دیتا ہےمگر افسوس کہ آج اس کی اہمیت کا اعتراف اسے حقوق دینے کے بجائے،
اس کے معاوضے میں کٹوتی اور استحصال کے ذریعے کیا جا رہا ہے پاکستان کے حالات اور مزدور کے مسائل پاکستان کی ایک الگ شناخت ہے، لہذا یہاں کے قوانین مقامی حالات کو مدنظر رکھ کر بننے چاہئیں
کراچی جیسے صنعتی شہر میں سرمایہ دار ایک عرصے تک بدامنی کے خوف میں رہا، مگر اب وقت ہے کہ ڈائیلاگ کے ذریعے آجر اور اجیر (مزدور) میں ہم آہنگی پیدا کی جائے
مزدور صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے عزت کے ساتھ صاف ستھرا لائف اسٹائل، تعلیم اور صحت کی وہ بنیادی سہولیات ملیں جو قانون نے اس کے لیے مقرر کی ہیں
مگر حقیقت میں اسے نوکری جانے کا خطرہ تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ، جبری اوور ٹائم اور ای او بی آئی سوشل سیکیورٹی جیسی مراعات سے محرومی کا سامنا ہے
حکومتی اداروں کا کردار اور استحصال اگر غور کیا جائے تو اصل استحصالی طاقتیں وہ حکومتی ادارے ہیں جو آجر کو ٹیکسوں اور اضافی نرخوں میں پھنسا کر خوفزدہ کرتے ہیں
انڈسٹریز اور وزارت محنت کے اداروں میں موجود کالی بھیڑیں محنت کشوں کو رجسٹرڈ کرنے کے بجائے رشوت لیتی ہیں۔
اسی طرح پاکٹ یونینز اور پاکٹ فیڈریشنز بنا کر اصل مزدور نمائندوں کا راستہ روکا جاتا ہے جس کی وجہ سے مزدور رہنما خود سرمایہ دار نظر آتے ہیں اور اپنے ہی بھائیوں کا استحصال کرتے ہیں
آئی ایل او کا لیبر کوڈ اور مستقبل کا لائحہ عمل موجودہ حالات میں ایک ایسی مزدور دوست فیڈریشن کی ضرورت ہے جو مزدوروں اور سرمایہ داروں کو ایک پیج پر لائے
آئی ایل او کی ڈکٹیشن پر بننے والے لیبر کوڈ جیسے کالے قوانین کی ہر صورت مذمت کی جائے گی ملی لیبر فیڈریشن جلد ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سامنے ایک ایسا چارٹر پیش کرے گی جس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی اور آجر و اجیر کے فاصلے ختم ہوں گے
تعارف: فیصل علی بلوچ ملی لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر ہیں اور طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول میں رہے ہیں ، اپنی تحریروں اور کالموں کے ذریعے وہ نہ صرف مزدوروں کے مسائل کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں ان کا کالم “سچائی کے رنگ فیصل کے سنگ” سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز سمجھا جاتا ہے
